خلیج فارس میں امریکی موجودگی سے کشیدگی پیدا ہوگی: ایرانی وزیر خارجہ

بیجنگ، 29 دسمبر، ارنا – ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ خلیج فارس کے پانیوں میں امریکی موجودگی نہ صرف غیرقانونی ہے بلکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس صورتحال سے خطے میں مزید کشیدگی پیدا ہوگی.

یہ بات محمد جواد ظریف' نے گزشتہ روز چین کے نشریاتی ادارے فونکس کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہی.

انہوں نے کہا جب بھی امریکہ نے خلیج فارس میں اپنی موجودگی میں اضافہ کیا اس کے بعد اس خطے میں بسنے والے ممالک کو خطرات کا سامنا ہوا ہے.

انہوں نے کہا کہ ہم ابھی بھی شام سے امریکی فوج کے انخلا کے فیصلے کے حوالے سے کچھ نہیں جانتے ہیں۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ خطے میں امریکہ کی پالیسی انتہائی خطرناک ہے جو تبدیل ہونا چاہیے.

ظریف نے ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ نے 8 مہینے پہلے ایران جوہری معاہدے سے نکلا اور اب بھی امریکہ کو مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے.

ایرانی وزیر نے ایرانی تیل کی برآمدات کے حوالے سے کہا کہ امریکہ ایران کو تیل برآمد کرنے سے نہیں روک سکتا ہے اور اگر وہ ایسا کرنے کا فیصلہ کرے تو دنیا کو انتشار اور افراتفری کا شکار کرے گا.

ظریف نے مزید بتایا کہ چینی قوم اور حکومت جانتے ہیں کہ ایران چین کا قابل اعتماد پارٹنر ہے اور ایران ہرگز چین میں توانا‏ئی کی فراہمی کو سیاسی مسائل کے ساتھ خلط و ملط نہیں کرے گا.

ظریف نے کہا کہ ہم بھی چینی حکومت سے چاہتے ہیں کہ ایران پر بھروسہ کرے کیونکہ چین اور ایران کے درمیان تعلقات عارضی نہیں اسٹریٹجک ہیں.

9410*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@