ایران کا پابندیوں کے دور میں برازیل سے ادویات برآمد کرنے پر غور

تہران، 29 دسمبر، ارنا - ایرانی وزیر صحت نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران برازیل کے ذریعے سے اپنی ادویات اور طبی سازوسامان کی ضروریات کی فراہمی پر غور کررہا ہے.

یہ بات ڈاکٹر ''سید حسن ہاشمی'' نے تہران میں برازیلی سفیر ''روڈریگو سینتوس'' کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے مزید کہا کہ آج برازیل دنیا میں ابھرتی ہوئی نئی معاشی طاقت ہے اسی لئے ایران پابندیوں کے دور میں برازیل سے ادویات کی برآمدات کے آپشن پر غور کررہا ہے.
ایرانی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے پیش نظر دنیا صرف امریکہ اور یورپی ملکوں تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر تعلقات کی وسعت میں اضافہ ہوگیا ہے اور اقوام کے سامنے مختلف راستے اور طریقہ کار موجود ہیں.
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ نئی برازیلی حکومت کے دورمیں ایران اور برازیل کے درمیان تعاون اچھی سطح پر آگے بڑھے گا تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ برازیلی بینک ایران کے ساتھ ادویات اور طبی آلات ک فراہمی کے شعبوں میں تعاون کے لئے کتنی حد تک تیار ہیں.
سید حسن ہاشمی نے مزید بتایا کہ ہماری نظر میں یورپی ممالک کے مقابلے میں برازیل ایران کو طبی ٹیکنالوجی، ادویات کی صنعت حتی کہ اسپتالوں کی تعمیر کے حوالے سے مدد فراہم کرسکتا ہے.
انہوں نے کہا کہ برازیل ایران کے لئے ایک سنہری موقع ہے لہذا ہم سمجھتے ہیں کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پابندیوں کو مواقع میں بدلنا ہوگا.
یاد رہے کہ ایران مخالف نئی امریکی پابندیوں کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے یہ دعویٰ کیا کہ ادویات کو ایرانی پابندیوں سے استنثنی حاصل ہے مگر ایران کے دوسرے ممالک کے ساتھ بینکاری لین دین کی سطح کم ہونے کی وجہ سے ایران کو ادویات کی برآمدات میں مشکلات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ایران ادویات کی پابندیوں کا بھی شکار ہوا ہے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@