ایرانی جزیرے قشم میں تاروں کی وادی، قدرت کا شاہکار

تہران، 29 دسمبر، ارنا – خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں واقع اسلامی جمہوریہ ایران کے جنوبی جزیرے قشم کے سیاحتی مقامات میں سے ایک تاروں کی وادی ہے جسے قدرت کا ایک عظیم شاہکار مانا جاتا ہے.

تاروں کی وادی کی تاریخ لگ بھگ 2 ملین سال پرانی ہے اور یہ مقام ہوا اور بارشوں کی وجہ سے مٹی کی ایک جگہ سے دوسری جگہ تبدیلی کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا ہے.
جزیرے قشم کی سرزمین میں چھپی ہوئی تاروں کی وادی کو دیکھنے کے لئے خزان کے خاتمے سے بہار کی ابتدا تک سفر کیا جاسکتا ہے.
یہاں کے باسیوں کا کہنا ہے کہ ہزار سال پہلے اس مقام پر آسمان سے ایک بڑا تارا گرا تھا جس کے نتیجے میں یہاں کی زمین کی شکل میں تبدیلی آگئی اسی لئے اس علاقے کو تاروں کی وادی کا نام دیا گیا ہے.
اس وادی کی عجیب اور غریب شکلوں، پیچ ورک اور گردش ایئر کی وجہ سے خوفناک آوازیں سننے کو مل جاتی ہیں لہذا کچھ لوگ یقین رکھتے ہیں کہ جب رات آتی ہے یہ وادی ارواح اور پریوں کی آمد شد کی جگہ ہوتی ہے مگر اب تک سائنسی لحاظ سے ان کے ایسے نظریات ثابت نہیں ہوا ہے.
ستاروں کی وادی اپنی دلکش اور خاص خصوصیات کی وجہ سے جنوبی جزیرے قشم کے جیو پارک کے ایک حصے کے طور پر اور اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسکو میں رجسٹرڈ کی گئی ہے.
ایرانی جنوبی جزیرے قشم کا تاریخی اور خوبصورت جیو پارک مشرق وسطی کا واحد جیو پارک ہے.
چاندنی راتوں اور راتوں کی خاموشی میں ستاروں کی وادی کی خوبصورتی دوگنا ہو رہی ہے.
اس وادی کے کونے کونے میں تنگ اور کبھی کبھی وسیع سڑکیں موجود ہیں جو ہر آنے والے کی آنکھوں کو گھوم کر رہی ہے.
اس وادی کی عجیب شکلیں کی طرح صرف امریکہ میں موجود ہے جو بہت ہی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے.
9393*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@