ایران کے ایٹمی خطرے کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا امریکی صہیونی ایجنڈے کا حصہ ہے

اسلام آباد، 28 دسمبر، ارنا - پاکستانی کالم نگار نے اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری پروگرام کو خطرہ قرار دینا امریکہ اور قابض صہیونی ریاست کے ایجنڈے کا ایک حصہ ہے.

پاکستانی اردو اخبار ''امت'' میں شائع ہونے والے ''ایس آصف انجم'' کے مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ کے دو تھنک ٹینکس نے اپنی علیحدہ علیحدہ رپورٹس میں ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پانچ مزید ایٹمی ہتھیاروں کی تیاروں میں مصروف ہے اور اپنے اس منصوبے پر عمل پیرا ہے. اس مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اس قسم کی رپورٹس کا اجرا کوئی انہونی بات نہیں ہے. ایران کے ایٹمی خطرے کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا در اصل صہیونی امریکی ایجنڈے کا ایک حصہ ہے جس پر عمل درآمد کیا جارہا ہے. اگر ایران کے جوہری پروگرام سے اتنا ہی خطرہ ہے تو پھر ڈونلڈ ٹرمپ نے بلاسوچے سمجھتے اور محض ناجائز صہیونی ریاست کی خوشنودی کے لئے مئی 2018 میں ایران کے ساتھ متفقہ طے شدہ معاہدے سے راہ فرار کیوں اختیار کی؟ سابق صدر براک اوباما پر تنقید کرنا کہ انھوں نے ایران کے جوہری خطرے کو کم سے کم ظاہر کیا، ایک انتہائی احمقانہ بات ہے. حقیقت میں ایران کے خلا جوہری ہتھیاروں کی تیاریوں سے متعلق آنے والی تمام رپورٹس بے بنیاد اور جھوٹی ہیں. عالمی جوہری توانائی ادارے نے بارہا اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران عالمی قوتوں سے طے پانے والے معاہدے پر خلوص دل سے عمل پیرا ہے اور ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کی تیاروںکی کوئی شہادت نہیں ملی ہے اس کے باوجود نام نہاد امریکی تھینک ٹینکس کی رپورٹس کا اجرا ایران کو دباؤ میں لینے کے سوا کچھ بھی نہیں. امریکہ اور دنیا بھر کے تمام نام نہاد تھنک ٹینکس محض اندیشوں اور اندازوں پر انحصار کرکے ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف جھوٹی اور بے بنیاد رپورٹس جاری کرکے سنسنی پھیلاتے رہتے ہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے. کیا کبھی کسی عالمی ادارے یا تھینک ٹینک نے قابض صہیونی ریاست کے250 سے زائد جوہری ہتھیاروں اور مشروق وسطیٰ کے اس واحد ایٹمی طاقت کے جوہری ہتھیاروں کے خطرات کے بارے میں کوئی رپورٹ جاری کی؟ یہ تمام عالمی ٹھیکیدار اچھی طرح جانتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں محض اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کس قدر خطرناک اور خوفناک نتائج کی حامل ہوسکتی ہے. امریکہ اور دنیا جس طرح سے اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں خاموش ہے اور اس کے بارے میں بولنا گناہ تصور کرتی ہے تو پھر اسلامی جمہوریہ ایران کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے جوہری سرگرمیوں میں اضافہ کرے کیونکہ جوہری ٹیکنالوجی محض امریکہ اور اسرائیل کے باپ کی جاگیر نہیں ہے. امریکی تھینک ٹینک کی رپورٹس کو اگر درست تسلیم کرہی لیا جائے تو امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ کئے گئے جوہری معاہدے سے یکطرفہ نکل جانے کے بعد ایران پر کوئی ذمے داری عائد نہیں ہوتی اور ایران اگر اپنی جوہری سرگرمیاں شروع کرتا ہے تو وہ اس میں حق بجانب ہوگا کیونکہ ایران کو حقیقی طور پر امریکہ اور اسرائیل کے ایٹمی ہتھیاروں سے خطرات کا سامنا ہے. 274** ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@