ایران اور طالبان کے درمیان مذاکرات جاری رہیں گے: ایڈمیرل شمخانی

تہران، 26 دسمبر، ارنا - اعلی ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن و سلامتی کی خاطر ایران اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا.

یہ بات ایڈمیرل "علی شمخانی" نے بدھ کے روز دورہ کابل کے موقع پر اپنے افغان ہم منصب "حمداللہ محب" کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے مزید کہا کہ ایران طالبان مذاکرات کا مقصد افغانستان میں سلامتی کے لئے مدد فراہم کرنا ہے.
شمخانی نے مزید کہا کہ مشترکہ مقاصد کے حصول اور معاہدوں کے نفاذ کے لئے ایران اور افغانستان کے قومی سلامتی اداروں کے درمیان مشاورتی عمل کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے.
انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کی رضامندی کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران اور طالبان کے درمیان مذاکرات ہورہے ہیں اور اس کا سلسلہ جاری رہے گا.
اعلی ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے تہران میں اپنے افغان، روسی، چینی اور بھارتی ہم منصبوں کے ساتھ حالیہ ہونے والی علاقائی امن نشست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپس میں مذاکرات اور سیکورٹی تعاون کے ذریعے علاقائی اقوام کے درمیان پائیدار امن کو مضبوط بناسکتے ہیں.
انہوں نے کابل کی میزبانی میں آئندہ ہونے والی دوسری علاقائی امن نشست کی حمایت کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ اس نشست کی مدد سے دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لئے علاقائی ممالک کے درمیان یکجہتی اور تعاون مزید مضبوط ہوگا.
اعلی ایرانی عہدیدار نے افغانستان میں امریکہ اور خطے کے بعض جابر ممالک کی جانب سے داعش کے دہشتگردوں کی حمایت اور ان کے باعث اٹھنے والے خطرات کو روکنے کے لئے عملی اقدامات اٹھانے پر زور دیا.
انہوں نے کہا کہ ایران اور افغانستان کے درمیان مشترکہ سرحدوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے سرحدی چوکیوں میں اضافےاور انھیں مضبوط بنانے کی ضرورت ہے.
اس ملاقات افغان مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف افغان قوم اور حکومت کا عزم مضبوط ہے.
حمداللہ محب نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے خطی سلامتی کے لئے ہمیشہ تعمیری کردار ادا کیا ہے اور یقینا سیکورٹی مسائل کے حل کے لئے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو بڑا اہمیت حاصل ہے.
9393*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@