چابہار بندرگاہ، ایران اور خطے میں ٹرانزٹ ٹریڈ کے فروغ کیلئے امید کی کرن

چابہار، 26 دسمبر، ارنا - ایرانی علاقے چابہار میں بھارت کی باضابطہ سرگرمیوں کے آغاز سے نہ صرف اس بندرگاہ کی اہم جغرافیائی پوزیشن نمایاں ہوگی بلکہ ایران اور خطے میں ٹرانزٹ اور تجارتی سرگرمیوں کے لئے یہ ایک نئی امید کی کرن ہے.

بھارتی کمپنی آئی پی جی ایل نے چابہار کی شہید بہشتی بندرگاہ پر باضابطہ طور پر اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے جس کی مدد سے مستقبل میں تجارت اور ٹرانزٹ سرگرمیاں عروج پر پہنچیں گی.
رپورٹس کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران، بھارت اور افغانستان کے درمیان طے پانے والے حالیہ معاہدے کے مطابق، آئی پی جی ایل کمپنی نے چابہار میں مصنوعات کی نگہ داشت، ٹرانزٹ سازوسامان کی فراہمی اور مصنوعات کی مارکیٹنگ کی ذمہ داری سنبھالی ہے.
امریکی پابندیوں سے چابہار کو استثنی ملنے کے بعد بھارت کی یہاں موجودگی سے افغانستان میں معاشی ترقی بالخصوص ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان کی تعمیر نو اور نقل و حمل شعبے کی ترقی میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے.
چابہار کے سہ فریقی معاہدے کی مدد سے بھارت اور افغانستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ میں مزید آسانی ہوئی ہے اور اس کے علاوہ علاقائی ممالک کی معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا ہوگا.
سال 2016 میں ایران، بھارت اور افغانستان کے سربراہان مملکت نے چابہار معاہدے پر دستخط کردئے.
گزشتہ دنوں چابہار میں تینوں ممالک کے سنیئر حکام کے درمیان نشست کا انعقاد کیا گیا جس کے بعد بھارتی کمپنی IPGL نے اپنے دفتر اور شہیدبہشتی بندرگاہ پر آپریشنل آفس کا باضابطہ افتتاح کردیا.
اس نشست میں ایران، بھارت اور افغانستان نے بارڈر ٹیرف، ریلوے لائن اور کسٹم سرگرمیوں کی بحالی اور نقل و حمل سے متعلق تفصیلی مذاکرات کئے.
اس موقع پر افغان محکمہ ٹرانزٹ کے سربراہ سید یحیی اخلاقی نے کہا کہ چابہار کے ذریعے افغانستان کے لئے سنہری اقتصادی مواقع فراہم ہورہے ہیں جن کی مدد سے افغانستان کی معیشت مزید ترقی کرے گی.
ان کا کہنا تھا کہ چابہار بندرگاہ سے نہ صرف افغان عوام میں خوشحالی پیدا ہوگی بلکہ خطے کے دیگر ممالک بھی اس کے ثمرات سے مستفید ہوسکتے ہیں بہ ہر حال چابہار تمام ممالک کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا.
سید یحیی اخلاقی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ افغان حکومت کی یہ کوشش ہے کہ چابہار معاہدے کے مطابق دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت اور ٹرانزٹ کی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لئے موثر طریقے بروئے کار لائے.
بھارتی دفتر خارجہ کے ایڈشنل سیکریٹری دیپک متل کا بھی کہنا ہے کہ چابہار ایران، یوریشیا کے جنوبی خطے، بھارت اور افغانستان کو آپس میں ملانے کا ایک اہم مرکز ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ سمندر میں تجارتی سرگرمیوں کو بڑھانے کے مقصد سے چابہار معاہدے کے نفاذ کے بعد سیاسی اور معاشی تعلقات کو بھی مزید فروغ ملے گا.
بھارتی عہدیدار نے چابہار میں منعقدہ سہ فریقی نشست کو ایک تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ چابہار بندرگاہ دنیا اور ممالک کی ترقی کے لئے ایک اہم گیٹ وے ہے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@