عراق میں ہماری کوئی عسکری سرگرمی نہیں: ایرانی سفیر

بغداد، 26 دسمبر، ارنا - عراق میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے کہا ہے کہ یہاں ایران کی نہ تو کوئی عسکری سرگرمی ہے اور نہ ہی ہمارے فوجی اڈے ہیں.

''ایرج مسجدی'' نے بغداد میں بعض عراقی صحافیوں اور مختلف میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ ایک مشترکہ نشست میں مزید کہا کہ عراق میں ہماری کوئی عسکری سرگرمی نہیں بلکہ ایران کے عسکری مشیر نے عراق میں داعش کے خاتمے کے اعلان کے بعد اپنے مشن کا اختتام کرکے واپس چلے گئے.
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے عسکری مشیر عراقی حکومت کی باضابطہ درخواست پر یہاں موجود تھے جو داعش کے تکفیری اور دہشتگرد عناصر کے مکمل خاتمے کے بعد عراق سے نکل گئے.
یاد رہے کہ عراق نے گزشتہ سال نومبر میں داعش پر غلبہ کا باضابطہ اعلان کردیا تھا.
ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ ایران کے برعکس امریکہ نے عراق میں داعش کے خاتمے کے باوجود اب بھی یہاں اپنی فورسز کو رکھا ہوا ہے اور بجائے اس کے کہ وہ اپنی فورسز کو عراق سے نکالے یہاں اپنے فوجی اڈوں اور عسکری پوزیشن کو مزید مستحکم کررہا ہے.
انہوں نے شام سے امریکی انخلاء پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شام سے انخلاء خطے میں واشنگٹن کی اسٹریٹجک پالیسی کا ایک حصہ ہے جبکہ اس پالیسی کا مقصد خطے میں بدامنی کو ہوا دینا ہے.
ایرج مسجدی نے کہا کہ امریکہ دہشتگردی یا داعش کا خاتمہ نہیں چاہتا بلکہ وہ اسے اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے تا کہ خطہ طویل مدت کے لئے غیرمستحکم اور کشیدگی کا شکار رہے.
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں غیرعلاقائی فورسز کی موجودگی کا کوئی جواز نہیں، امریکی سفارتخانے کو مقبوضہ فلسطین سے بیت المقدس منتقل کرنے کے امریکی فیصلے اور صہیونیوں کی جانب سے داعش کی حمایت کے بعد علاقائی اقوام کے سامنے امریکہ اور ناجائز صہہونی ریاست کی خفیہ سازشیں مزید بے نقاب ہوئیں.
ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ دنیا میں امریکی جبر اور غنڈہ گردی جنگل کے قانون کے مترادف ہے، امریکی حکمران سمجھتے ہیں کہ دنیا ان کی ملکیت ہے اسی وجہ سے آج ان سے نفرت میں مزید اضافہ ہوا ہے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@