ایران میں مذہبی اقلیتوں کا احترام، اسلامی انقلاب کی اہم کامیابی ہے

تہران، 23 دسمبر، ارنا - ایران میں یہودی برادری سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا احترام کرنا، اسلامی انقلاب کی اہم کامیابی ہے.

یہ بات "سیامک مرہ صدق" نے گزشتہ روز اسلامی انقلاب اور الہامی ادیان کے درمیان چار دہائیوں سے یکجہتی اور ہم آہنگی پر قومی سمینار میں خطاب کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے ایران کا آئین، ایرانی اعلی حکام سمیت قائد اسلامی انقلاب کی جانب سے مختلف ادیان کے پیروکاروں کے احترام کرنے کی تعریف کرتے ہوئے اسے اسلامی انقلاب کی اہم کارکردگی کو قرار دے دیا.
مرہ صدق نے کہا کہ ایران کے آئین میں پہلا شہری طبقے کے طور پر مختلف مذہبی اقلیتوں کے نام پیش کیا گیا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں بسنے والے الہامی ادیان کے پیروکار دوسرے ایرانی شہریوں کی طرح برابر شہری حقوق سے لطف اندوز ہونے کے علاوہ اپنی خصوصی مذہبی تقاریب اور روایات پر آزادی کے ساتھ عمل کر رہے ہیں اور ہم اپنے وطن عزیز ایران کے دفاع کے لیے متحد اور تیار ہیں.
انہوں نے کہا کہ ایران میں یہودی برادری ہرگز اپنے مسائل اور مشکلات کو اجنبیوں کے سامنے پیش نہیں کرے گی کیونکہ تمام مسائل کے حل ایرانی آئین میں آیا تھے.
انہوں نے آٹھ سالہ تحمیلی جنگ کے دوران یہودی برادری کے اہم کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کے دوران بڑی تعداد میں یہودی شہری شہید ہوگئے.
یہودی برادری سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ نے رہبر معظم کی جانب سے مذہبی اقلیتوں کے مسائل پر اہمیت دینے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے ہمارے مسائل کا جائزہ اور اہمیت دینا اس ملک میں تمام مذہبی اقلیتوں کو برابر شہری حقوق حاصل ہونے کی علامت ہے.
انہوں نے کہا کہ قومی شناخت کا تحفظ اور شہری ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہماری اہم ترجیح ہے اور خوش قسمتی سے قانون سازی کے سلسلے میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی بھرپور حمایت حاصل ہے.
ایرانی صوبے قم میں ادیان اور مختلف مذاہب یونیورسٹی کے سربراہ "سید ابوالحسن نواب" نے کہا کہ مختلف ادیان کے درمیان مکالمہ اور مذہبی مطالعات کی توسیع اسلامی انقلاب کی اہم کامیابیاں ہیں اور دنیا کی ادیان یونیورسٹی صرف اسلامی جمہوریہ ایران میں واقع ہے.
نواب نے مختلف ادیان کے پیروکاروں کے احترام پر زور دیا اور کہا کہ ایرانی آئین میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا ہے لہذا ایرانی مجلس میں تمام ادیان کے رکن پارلیمنٹ سرگرم عمل ہیں.
9393*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@