ایرانی میزائل پروگرام پر مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں: ظریف

تہران، 15 دسمبر، ارنا - ایران کے وزیر خارجہ نے ملکی دفاعی پروگرام کے خلاف امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے یہ بات واضح کردی ہے کہ ایران کی میزائل سرگرمیوں پر ہرگز مذاکرات نہیں ہوں گے.

''محمد جواد ظریف'' نے ہفتہ کے روز دوحہ فورم 2018 کے موقع پر قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے مزید کہا کہ ایرانی میزائل پروگرام کا مقصد صرف ملکی دفاع ہے.
ایرانی وزیر خارجہ نے جوہری معاہدے سے امریکہ کی غیرقانونی علیحدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 پر بات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے.
انہوں نے ایران کی میزائل سرگرمیوں کے خلاف امریکی الزامات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میزائل پروگرام کا مقصد دفاعی صلاحیت کو ناقابل تسخیر بنانا ہے، ایران اپنے دفاعی پروگرام میں جو بجٹ استعمال کررہا ہےوہ خطے کے دیگر ممالکے کے مقابلےمیں بہت کم ہے اسی وجہ سے ہم شروع سے کہہ کررہے ہیں کہ ایران کے میزائل پروگرام پر مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں ہے.
ظریف کا کہنا تھا کہ امریکی حکمرانوں کی یہ کوشش تھی کہ وہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کو ختم کریں مگر ان کی کوششوں کے باوجود یہ قرارداد اپنی جگہ باقی ہے.
انہوں نے کہا کہ ایران پر میزائل کے تجربے سے متعلق کوئی پابندی نہیں اور قرارداد 2231 میں ان میزائلوں کی بات ہوئی جن میں جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت ہو اور ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایسے میزائل کا تجربہ نہ کرے تاہم ایران پر معمول کے مطابق میزائل تجربات پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی.
محمد جواد ظریف نے یمنی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور امارات نے امریکی اور برطانوی میزائلوں سے یمن کو جہنم میں تبدیل کردیا ہے.
انہوں نے مزید کہا حوثی فورسز یمن میں ان ہتھیاروں کا استعمال کررہے ہیں جن کو علی عبداللہ صالح کے دور میں سعودی عرب سے خریدا گیا تھا.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@