ایران اور عراقی کردستان کے معاشی تعاون کو متاثر کرنے کی امریکی ناکامی

سلیمانیہ، 15 دسمبر، ارنا - عراقی کردستان کے تاجروں پر امریکی دباؤ اور ایران کے ساتھ تجارت کو متاثر کرنے کی سازشوں کے باجود ایران اور عراقی کردوں کے درمیان اقتصادی تعاون کا سلسلہ جاری ہے.

یہ بات سلیمانیہ میں تعینات ایران کے قونصل جنرل ''سعداللہ مسعودیان'' نے ہفتہ کے روز ارنا نیوز کے نمائندے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے عراقی کردستان بالخصوص سلیمانیہ کے تاجروں کی ایران کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے متعدد کوششیں کیں مگر یہ سازشیں ناکام رہیں.
ایرانی سفارتکار کا کہنا تھا کہ امریکی دباؤ کے باوجود عراق کے کُرد تاجر ایران کے ساتھ تعاون کرنے کی طرف زیادہ رخ کررہے ہیں. عراقی کردستان میں 30 فیصد ایرانی مصنوعات پائی جاتی ہیں اسی لئے خود کُرد تاجر موثر طریقوں کی تلاش میں ہیں جن کی مدد سے ایران کے ساتھ تجارت کو برقرار رکھا جائے.
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے عراقی کردستان کو 3 ارب ڈالر کی مالیت کی نان آئل مصنوعات برآمد کی گئی ہیں، یہاں ایرانی مصنوعات کردوں کے لئے ناگزیر بن چکی ہیں دوسری صورت میں انھیں اپنی ضروریات کو مہنگے داموں میں پورا کرنا ہوگا.
ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ ایران کے عراقی کردستان بالخصوص سلیمانیہ صوبے کے ساتھ تمام شعبوں میں اچھے تعلقات قائم ہیں بالخصوص ہم نے تعلیمی شعبے میں 700 عراقی کرد طالب علموں کو مختلف ایرانی جامعات میں اسکالرشپ مہیا کئے ہیں.
انہوں نے عراقی کردستان سے ایران سفر کرنے والوں سے متعلق کہا کہ یہاں روزانہ ایک ہزار ویزے کی درخواستیں موصول ہوتی ہیں جو ایران جانے والے کُرد شہریوں کی تعداد میں قابل قدر اضافہ ظاہر کرتی ہیں.
سعد اللہ مسعودیان نے مزید کہا کہ گزشتہ موسم گرما میں 20 لاکھ سے زائد عراقی شہری ایران گئے جن میں ایک چوتھائی عراقی کرد تھے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@