پاکستانی وفد نے مغوی ایرانی اہلکاروں کی بازیابی کے لئے تعاون کی یقین دہائی کرائی

زاہدان، 13 دسمبر، ارنا - ایران اور پاکستان کے 22ویں مشترکہ سرحدی کمیشن کے اجلاس کے موقع پر پاکستانی وفد نے ایرانی حکام کو اس بات کی یقین دہائی کرائی ہے کہ پاکستان دہشتگردوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے والے باقی کے 7 ایرانی اہلکاروں کی بازیابی میں تعاون کرے گا.

یہ بات ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان کے نائب گورنر جنرل برائے سیکورٹی امور ''محمد ہادی مرعشی'' نے پاک ایران سرحدی اجلاس کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی حکام نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ مغوی ایرانی بارڈر گارڈز کے معاملے پر ہر ممکن تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں.
انہوں نے کہا کہ مغوی ایرانی اہلکاروں کا مسئلہ 22ویں سرحدی اجلاس کے سب سے اہم ایجنڈہ تھا جس پر دونوں ممالک نے سنجیدگی سے مذاکرات کئے. اس کے علاوہ فریقین نے سرحدی امور، معاشی سرگرمیوں اور سیکورٹی تعاون سے متعلق بھی گفتگو کی.
ہادی مرعشی نے مزید کہا کہ ایران اور پاکستان کے حکام نے یہ فیصلہ کیا کہ مشترکہ سرحدوں کی حافظت کے لئے شرپسند عناصر، دہشتگرد اور اسملگروں کے خلاف مشترکہ کاروائیوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا.
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے سرحدی مارکیٹوں کے فروغ پر اتفاق کیا جبکہ پاکستان سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ ایرانی حدود میں قائم سرحدی مارکیٹوں کی طرح وہ بھی اپنی حدود میں مقامی مارکیٹوں کی بہتری کے لئے موثر اقدامات کرے.
یاد رہے کہ پاک ایران جوائنٹ بارڈر کمیشن کا اجلاس زاہدان میں اختتام پذیر ہوگیا اور اس موقع پر دونوں وفود نے معاہدے پر بھی دستخط کردئے.
22ویں سرحدی کمیشن اجلاس میں انسداد دہشتگردی پر مشترکہ اقدامات، معلومات کا تبادلہ، تجارت میں اضافے اور بارڈر سیکورٹی امور پر اہم فیصلے کئے گئے اس کے علاوہ دونوں ممالک مل کر دہشتگردی کے خاتمے کے لئے مزید موثر اقدامات کریں گے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@