امریکہ کے آنے سے افغانستان میں افیون کی پیداوار میں 45 فیصد اضافہ ہوا: ایرانی کمانڈر

اسلام آباد، 12 دسمبر، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران کی انسداد منشیات پولیس فورس کے کمانڈر نے کہا ہے کہ 2001 میں افغانستان میں امریکی جارحیت کے آغاز کے بعد وہاں افیون کی پیداوار میں 45 فیصد کا اضافہ ہوا ہے.

ان خیالات کا اظہار بریگیڈیر جنرل ''محمد مسعود زاہدیان'' نے پاکستان میں منشیات کی روک تھام سے متعلق سہ فریقی اجلاس کے اختتام پر ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا.
اس اجلاس میں ایران، پاکستان اور افغانستان کے سنیئر حکام شریک تھے جن کا مقصد خطے میں منشیات کی روک تھام کے لئے اجتماعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا تھا.
بریگیڈیر جنرل محمد مسعود زاہدیان نے دورہ پاکستان اور سہ فریقی اجلاس کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ دنیا کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے اور اس لعنت کے خاتمے پر تمام ممالک کی نگاہیں مرکوز ہیں.
انہوں نے بتایا کہ جب 2001 میں امریکہ نے افغانستان پر جارحیت کی تو اس وقت افیون کی پیداوار 200 ٹن تھی مگر اس کی شرح 2017 کے آخر تک 9 ہزار ٹن تک پہنچ گئی ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں امریکی آمد سے نہ صرف وہاں امن و استحکام مضبوط نہیں ہوا بلکہ دہشتگردی اور منشیات جیسی لعنت میں خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے.
بریگیڈیر جنرل محمد مسعود زاہدیان نے بتایا کہ افغانستان میں منشیات کی بڑھتی ہوئی پیداوار سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے امریکیوں کی وجہ سے خطے میں دہشتگردی کو فروغ اور منشیات کی اسمگلنگ عروج پر پہنچ گئی ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کے سہ فریقی اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایران، پاکستان اور افغانستان کے جائنٹ پلاننگ سیل کو مزید فعال بنادیا جائے گا. اس کے علاوہ جلد مستقبل میں تینوں ممالک کے درمیان وزراء کی سطح پر کسی ایک ملک میں اجلاس کا انعقاد کیا جائے گا.
ایرانی کمانڈر نے کہا کہ ایران کے افغانستان اور پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا تا کہ منشیات اسمگلروں کی مزید نقل و حرکت کو روکا جاسکے.
انہوں نے مزید کہا کہ ایران منشیات کی روک تھام کے لئے جدید آلات اور ٹیکنالوجی کا استعمال کررہا ہے اور اس کے علاوہ ملک کی شمال اور شمال مغربی سرحدوں پر کڑی نگرانی ہے جس کا مقصد دوسرے ممالک تک منشیات کی منتقلی کو روکنا ہے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@