چابہار میں جاپان، چین اور یورپ کو سرمایہ کاری کیلئے ماحول فراہم کیا جائے: ایرانی تجزیہ کار

تہران، 12 دسمبر، ارنا - امور برصغیر کے ایرانی ماہر نے کہا ہے کہ چابہار بندرگاہ کی اہم جغرافیائی پوزیشین کے پیش نظر یہاں پر جاپان، چین اور یورپی ممالک کے لئے سرمایہ کاری کی فضا فراہم ہونی چاہئے.

''پیرمحمد ملازھی'' نے ارنا نیوز کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ خلیج فارس کے جنوبی پانیوں میں موجود دیگر بندرگاہوں کے مقابلے میں چابہار کو زیادہ اہمیت حاصل ہے لہذا ایران کو چاہئے کہ یہاں چین، جاپان اور یورپ کو سرمایہ کے لئے سازگار ماحول فراہم کرے.
گزشتہ ہفتے میں چابہار دہشتگرد حملے کے بعد اس واقعے پر خطے اور عالمی سطح پر خصوصی توجہ مبذول ہوئی. سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ اس حملے کا ایک اہم مقصد چابہار میں ترقیاتی منصوبوں کو روکنا ہے جبکہ اس بندرگاہ کو امریکی پابندیوں سے بھی استثنی مل چکی ہے.
پیرمحمد ملازھی کا کہنا ہے کہ چابہار اور مکران ساحل کی ترقی کے سنہری مواقع میسر ہوئے ہیں لہذا ایران کو چاہئے کہ یہاں چین، جاپان اور یورپ جیسے دنیا کے طاقتور ممالک کی سرمایہ کاری کو یقینی بنائے.
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں طاقتور ممالک کے درمیان معاشی اور سیاسی میدان میں ریس ہے جس کے پیش نظر چابہار کو استثنی دے دی گئی تا کہ یہ مقابلہ مزید سخت ہوجائے.
ایرانی تجزیہ کار نے کہا کہ چابہار کو استثنی ملنا صرف یہاں تک محدود نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی طاقتوں کی نگاہ مکران کے ساحل پر بھی ہے جس کی مسافت بندرعباس سے کراچی تک 1500 کلومیٹر پر مشتمل ہے.
ان کے مطابق، مکران کا ساحل ایک ایسی اہم جغرافیائی پوزیشن پر موجود ہے جہاں آنے کے لئے عالمی قوتیں منصوبہ بندی کررہی ہیں.
انہوں نے بین الاقوامی سطح پر چین کی ترقیاتی منصوبوں کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ون بیلٹ ون روڈ کے چینی منصوبے جس میں پاکستانی بندرگاہ گوادر بھی شامل ہے بہت اہمیت کا حامل ہے. چین چاہتا ہے کہ وہ ان منصوبوں کے ذریعے بحیرہ ہند میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائے اور وہ 21ویں صدی میں خود کو دنیا کی پہلی طاقت متعارف کرانے کے لئے منصوبہ بندی کررہے ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ کرغزستان میں روڈ سے متعلق چین کے تین منصوبے پر کام جاری ہے جس کا ایک حصہ ترکمانستان کے ذریعے افغانستان، ایران اور عمان کو جاتا ہے اور دوسرا حصہ ماسکو اور یورپ کو جاتا ہے.
پیرمحمد ملازھی نے کہا کہ چین گوادر بندرگاہ میں 54 ارب ڈالر سرمایہ کاری کررہا ہے. یہاں ماضی میں امریکہ موجود تھا، ایران کے شہنشاہ کے دور میں امریکی سویت یونین کو روکنے کے لئے چابہار کو عسکری علاقہ کی شکل دینا چاہتے تھے جس کا مقصد آبنائے ہرمز اور یہاں سے تیل اور دیگر ایندھن کی نقل و حمل کو تحفظ فراہم کرنا تھا.
انہوں نے مزید کہا کہ سابق پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سوشلسٹ سوچ رکھتے تھے اور وہ خفیہ طور پر سویت یونین کو گوادر بندرگاہ دینے کے معاملات طے کررہے تھے جس کی وجہ سے امریکہ کو چابہار بندرگاہ کی اہمیت نظر آنے لگی. بلکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سابق پاکستانی فوجی صدر جنرل ضیاالحق کی جانب سے اس وقت کی حکومت کو برطرف کرنا اور بھٹو کو پھانسی دینے کی ایک وجہ یہ تھی کہ بھٹو سویت یونین کے قریب ہورہے تھے.
پیرمحمد ملازھی نے کہا کہ آج روس اور چین پاکستان کے ساتھ اہم مذاکرات کررہے ہیں جس کے تحت دوطرفہ معاشی تعلقات کو بڑھانا جائے گا، دوسری جانب امریکہ بھی خطے میں بالخصوص عرب ریاستوں میں بھاری سرمایہ کار کررہا ہے، ایسی صورتحال میں چابہار بندرگاہ کی اہمیت کو مزید اجاگر کرنا ہوگا.
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو چاہئے کہ ماہرانہ انداز میں چابہار بندرگاہ کی ترقی کے لئے عالمی سرمایہ کاری بالخصوص چین، بھارت، جاپان اور یورپی ممالک کی سرمایہ کاروں کو راغب کرے. چابہار اور گوادر ایک دوسرے کی حریف بندرگاہیں نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کے تعاون کرسکتی ہیں.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ایران چابہار میں چینی،جاپانی اور یورپی سرمایہ کاری کو یقینی بنائے تو بھارت بھی سنجیدگی اپنائے گی اور چابہار میں سرمایہ کاری کرنے سے متعلق اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے گا.
پیرمحمد ملازھی کا کہنا تھا کہ بھارت کے لئے اسی میں بہتری ہے کہ وہ پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے چابہار کے ذریعے افغانستان اور وسطی ایشیا تک اپنی رسائی کو ممکن بنائے. دوسری جانب ایران اس منصوبے میں چین کو بھی شامل کرے کیونکہ چین کی شراکت داری سے بھارتی سرمایہ کاری مزید یقینی بن جائے گی.
انہوں نے چابہار میں حالیہ دہشتگردی کے اثرات اور اس کی وجہ سے بھارتی سرمایہ کاری میں ممکنہ تعطل سے متعلق کہا کہ سیکورٹی ایک اہم مسئلہ جس پر سب کی نگاہ ہوتی ہے بہر حال اس کا تعلق ایران سے ہے اور ایران کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس واقعے کے بعد اسے کس طرح کی حکمت عملی اپنانی ہوگی.
پیرمحمد ملازھی کا کہنا تھا کہ انتہاپسند اور دہشتگرد عناصر غربت اور علاقے کی پسماندگی سے فائدہ اٹھاکر خطے کی سیکورٹی کو چیلنج کرتے ہیں لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے مضموم عزائم سے نمٹنے کے لئے موثر پالیسی اپنائی جائے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@