چابہار مشہد ریلوے لائن، ایران کے جنوب مشرقی خطے کی ترقی کا دروازہ

زاہدان، 12 دسمبر، ارنا - ایران میں تجارتی ٹرانزٹ اور شہیدبہشتی بندرگاہ کی ترقی کے لئے چابہار سے مشہد ریلوے لائن کی تعمیر اہم منصوبہ ہے جس سے جنوب مشرقی صوبے سیستان و بلوچستان کی خوشحالی کے لئے سنہری مواقع فراہم ہوں گے.

چابہار مشہد ریلوے لائن کی تعمیر سے ایران کے جنوب مشرقی خطے کے لئے تیل آمدنی کے برابر فائدے ملیں گے جبکہ کہا جارہا ہے کہ اس منصوبے سے تیل آمدنی سے بڑھ کر جنوب مشرقی صوبے کو ثمرات ملیں گے.
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں خشک سالی کے پیش نظر سیستان و بلوچستان کی معیشت کو زندہ رکھنے کے لئے نقل و حمل، تجارت اور ٹرانزٹ اہم ہیں کیونکہ زراعت اور صنعت سے متعلق دیگر صوبوں کے مقابلے میں سیستان و بلوچستان کی زیادہ قابلیت ہے.
چابہار مشہد ریلوے لائن ایران کے جنوب مشرقی علاقے ایرانشہر، خاش، زاہدان، زابل، نہبندان، بیرجند، قائن اور گناباد سے ہوتے ہوئے تربت حیدریہ کے ذریعے بافق-مشہد لائن سے ملتی ہے. اس منصوبے کی تکمیل سے صوبہ سیستان و بلوچستان مختلف ریلوے ٹریک سے ایران کے ہمسایہ ملکوں سے منسلک ہوجائے گا.
حالیہ معاشی پابندیوں سے چابہار بندرگاہ کو استثنی ملنے کے پیش نظر اور اس کے علاوہ اس بندرگاہ میں مصنوعات کی بڑی آمد سے اگر یہاں ریلوے لائن منصوبہ مکمل ہو تو چابہار سے وسطی ایشیا اور یورپ کو مصنوعات کی ترسیل میں غیرمعمولی تیزی آئے گی جس سے سیستان و بلوچستان صوبے کو سب سے زیادہ فائدہ ملے گا.
چابہار مشہد ریلوے لائن ایران کا سب سے طویل منصوبہ ہوگا جس کا سنگ بنیاد سابق حکومت کے دور میں رکھا گیا تھا. 6 دسمبر 2010 میں اس وقت کے صدر مملکت نے چابہار زاہدان ریلوے لائن کے منصوبے کا افتتاح کردیا تاہم بجٹ کی عدم فراہمی کی وجہ سے یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا لیکن 2013 میں ایران کے خاتم الانبیا ورکس آرگنائزیشن نے اس منصوبے کو مکمل کرنے کے معاہدے پر دستخط کردئے.
اس معاہدے کے تحت یہ مقرر کردیا گیا کہ مارچ 2018 تک چابہار سے زاہدان تک ریلوے لائن کا منصوبہ کو مکمل کردیا جائے گا مگر ہیوی ورکس کی وجہ سے اس کی مدت میں مزید پانچ سال اضافہ کردیا گیا اور اب اس کا افتتاح ستمبر 2021 میں ہوگا.
چابہار زاہدان ریلوے لائن کا منصوبہ اس وقت 35 فیصد تک مکمل ہوچکا ہے. اس حوالے سے سیستان و بلوچستان میں قائم حکومتی ادارہ برائے تعمیر اور نقل و حمل کی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے نمائندے نے کہا ہے کہ اس منصوبے کو آٹھ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس کے مطابق چابہار سے ایرانشہر چار حصے، ایرانشہر سے خاش تک دو حصے اور خاش سے زاہدان تک دو حصے ہیں.
''مہدی رضایی'' نے کہا کہ ریلوے لائن کی تعمیر کی مسافت 610 کلومیٹر ہے اور اس میں اسٹیشنز کو ملا کر اس کی مسافت 730 ہوگی.
انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال اس منصوبے سے متعلق پل، سرنگوں کی تعمیر اور دییگر بنیاڈی ڈھانچوں کے منصوبوں پر کام جاری ہے.
ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ اب تک ایک ہزار ارب تومان اس منصوبے پر خرچ کئے گئے ہیں اور اس کے افتتاح تک مزید چار ہزار ارب تومان خرچ کئے جائیں گے.
انہوں نے مزید کہا کہ چابہار سے زاہدان کے درمیان چلنے والی ریل گاڑی کی حد رفتار 120 کلومیٹر ہوگی جسے 160 تک بڑھایا جاسکتا ہے. ریلوے ٹرک لگانے میں زیادہ وقت نہیں لگتا بلکہ منصوبے کا زیادہ وقت بنیادی ڈھانچوں کی فراہمی اور ان کی تعمیر پر مرکوز ہے.
رضایی نے بتایا کہ چابہار اور زاہدان کے درمیان 35 سرنگوں کی تعمیر پر غور کیا جارہا ہے، اب تک 20 سرنگوں کے لئے جگہ کھودی گئی ہے اور 15 سرنگوں کی تعمیر اب بھی باقی ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کا اہم مقصد کارگو ہے مگر مستقبل میں اس ریلوے لائن کو مسافروں کی منتقلی کے لئے استفادہ کیا جائے گا.
مہدی رضائی نے کہا کہ چابہار زاہدان ریلوے لائن منصوبے کے آغاز سے 2 ہزار افراد کے لئے روزگار فراہم ہوئے ہیں جو مختلف حصوں میں کام کررہے ہیں اور اس کے علاوہ 700 ہیوی مشنری بھی اس پوری مسافت میں کام کررہی ہیں.
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ منصوبے میں اب تک کی ہونے والی قابل قدر کی پیشرفت کو دیکھتے ہوئے موجودہ حکومت کے آخر تک اس کا افتتاح کردیا جائے گا.
انہوں نے چابہار مشہد ریلوے لائن کو بین الاقوامی سطح پر حاصل ہونے والی پوزیشن پر تبصرہ کرتے ہوئے سیستان و بلوچستان ایران کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ باصلاحیت صوبہ ہے یہاں نقل و حمل سرگرمیوں کے لئے سازگار ماحول فراہم ہے جس سے پورے ملک کے لئے ذریعہ آمدنی بن سکتا ہے بلکہ تیل سے بڑھ کر ملک کو ریونیو دے گا.
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی اعلی قومی منصوبوں کے مطابق چابہار مشہد ریلوے لائن کا منصوبہ حتمی ہے اور اسے زاہدان تک محدود نہیں کرنا چاہئے.
ایرانی عہدیدار کے مطابق، ریلوے منصوبہ چابہار بندرگاہ کی ترقی سے منسلک ہے، ایران سے زیادہ دوسرے ممالک کے لئے یہ منصوبہ بڑی اہمیت رکھتا ہے. مثال کے طور پر بھارت وسطی ایشیا اور یورپ کو اپنی مصنوعات کی برآمدات کے لئے چابہار ریلوے منصوبے پر نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ بھارت بندرعباس میں اپنی مصنوعات اتارنے سے زیادہ چابہار کو اپنے لئے موزوں سمجھتا ہے کیونکہ یہاں سے وسطی ایشیا اور یورپی خطے تک مسافت کم ہے.
یہ بات قابل ذکر ہے کہ چابہار کو پابندیوں سے استثنی ملنے کے بعد ضرورت اس بات کی ہے کہ سیستان و بلوچستان کے بنیادی ڈھانچوں بالخصوص ریلوے اور سڑکوں کے منصوبوں میں اضافہ کیا جائے جس کی مدد سے ایران کی معیشت بالخصوص جنوب مشرقی خطے کی خوشحالی میں مزید اضافہ ہوگا.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@