امریکی پابندیوں کے باوجود ایرانی تیل برآمدات میں مزید اضافہ ہوا ہے: صدر روحانی

تہران، 11 دسمبر، ارنا - صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے چار نومبر کو لگائی جانے والی نئی پابندیوں کے باوجود ایرانی تیل برآمدات کی سطح میں مزید اضافہ ہوا ہے.

یہ بات صدر مملکت ڈاکٹر ''حسن روحانی'' نے تہران میں عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ صادق لاریجانی اور اسپیکر پارلیمنٹ علی لاریجانی کے ساتھ ایک مشترکہ نشست میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ امریکہ نے گزشتہ ماہ ایران پر نئی پابندیاں لگائیں تا کہ وہ ایرانی تیل کی فروخت کو صفر تک لانے کا دعویٰ پورا کرے مگر ہم یقین سے کہہ رہے ہیں کہ ان پابندیوں کے باوجود ایرانی تیل برآمدات میں مزید بہتری دیکھنے میں آئی ہے.
ڈاکٹر روحانی نے ایران کی اندرونی اور معاشی صورتحال سے متعلق کہا کہ وزیر تیل کی تازہ ترین رپورٹ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ ملکی تیل برآمدات اچھی سطح پر ہیں.
انہوں نے ویانا میں اوپیک تنظیم کے حالیہ اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس سے متعلق امریکی حکام اپنے عزائم میں ناکام رہے، وہ چاہتے تھے کہ اوپیک ممالک اپنی پیداوار میں کمی نہ لائیں جبکہ ہم نے دیکھا کہ اوپیک کے رکن اور غیررکن ممالک نے اتفاق کیا کہ وہ تیل کی پیداوار کی سطح کو کم کردیں گے.
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ اوپیک کے حالیہ فیصلہ کے باوجود ایران کو اس سے استثنی مل گئی اور ایرانی تیل کی فروخت اس اجلاس کے پہلے کی طرح اپنی جگہ بر باقی رہے گی.
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ملک میں معاشی شعبے میں استحکام لانے کے ہر ممکن کوشش کررہی ہے.
ڈاکٹر روحانی کے مطابق، امریکیوں کا خیال تھا کہ وہ 4 نومبر کی پابندیوں کے بعد ایران میں افراتفری پیدا کرسکتے ہیں مگر ایرانی عوام اور ملکی تاجروں نے ایسا موثر طریقہ کار اپنایا جس سے امریکی عزائم برعکس ثابت ہوئے.
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ایران کے نئے مالی سال کا بجٹ تیار ہے اور اسے جلد پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@