ایرانی خواتین کی ترقی مغربی سسنرشپ کا شکار ہے: ایرانی نمائندہ

کراچی، 10 دسمبر، ارنا - پاکستان میں خواتین اور میڈیا پر عالمی کانفرنس میں شریک ارنا نیوز ایجنسی کی خاتون نمائندہ نے کہا ہے کہ ایرانی معاشرے میں خواتین کی نمایاں کارکردگی ہے جبکہ مغربی میڈیا نے اس ترقی کو سسنرشپ کا شکار کیا ہوا ہے.

ان خیالات کا اظہار ''کبریٰ آقازری'' نے پاکستان کے جنوبی ساحلی شہر ''کراچی'' میں ہونے والی میڈیا میں خواتین کے کردار پر بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا.
آقازری اس کانفرنس میں اسلامی جمہوریہ ایران اور ارنا نیوز ایجنسی (IRNA) کی نمائندگی کررہی تھیں.
انہوں نے مزید کہا کہ آج ایرانی خواتین ملک کے سماجی، سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی میدان میں اعلی کارکردگی کا مظاہرہ بھی کررہی ہیں مگر مغربی میڈیا ایرانی خواتین کی اس ترقی کو سسنرشپ کے ذریعے چھپارہا ہے تا کہ دنیا ہماری خواتین کی کامیابی کو نہ دیکھ سکے.
انہوں نے مزید کہا کہ آج مغربی میڈیا میں ایرانی خواتین سے متعلق بے بنیاد رپورٹس شائع ہوتی ہیں جو ہرگز حقیقت پر مبنی نہیں ہوتی.
کبریٰ آقازری کا کہنا تھا کہ خواتین ایران کی نصف آبادی ہیں اور ملکی جامعات کے انٹری امتحانات میں پاس ہونے والوں میں 60 فیصد خواتین ہوتی ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ کہ آج ایرانی معاشرے میں 90 فیصد خواتین پڑھی لکھی ہیں اور ملک میں خواتین کی شرح خواندگی بھی اچھی ہے.
ارنا نیوز ایجنسی کی نمائندہ نے میڈیا کے شعبے میں ایرانی خواتین کی نمایاں موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں پہلی بار خواتین سے متعلق جریدہ 1910 میں شائع ہوا.
انہوں نے مزید کہا کہ آج ارنا نیوز ایجنسی جس کی میں نمائندگی کررہی ہوں، میں 491 رپورٹرز اور صحافیوں میں سے 270 خواتین ہیں یعنی کہ ارنا ادارے کے نصف ملازمین خواتین پر مشتمل ہیں جو مختلف شعبوں میں اہم فرائض سرانجام دے رہی ہیں.
کبریٰ آقازری نے کہا کہ ایران میں خواتین صحافی کی مستقل تنظیمیں اور یونین ہیں جو آزادانہ طور پر اپنی سرگرمیاں انجام دے رہی ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ بحیثیت ایک خاتون میڈیا کارکن میں سمجھتی ہوں کہ اگر ہم معاشرے میں حقیقت پر مبنی اقدام کریں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ خواتین کے لئے میڈیا میں کردار ادا کرنے کے لئےسنہری مواقع موجود ہیں.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@