ٹرمپ پالیسی سے امریکی ساکھ مجروح ہوئی ہے: امریکی پروفیسر

لندن، 10 دسمبر، ارنا - امریکی ریاست کیلیفورنیا یونیورسٹی کے پروفیسر کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی اینٹی ایران پالیسی بالخصوص خلیج فارس میں اشتعال انگیز اقدامات سے عالمی سطح پر امریکی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے.

ان خیالات کا اظہار پروفیسر ''رومن گرس فگیل'' جنہوں نے ایک عالمی کانفرنس میں شرکت کے لئے لندن آئے تھے، نے ارنا نیوز کے نمائندے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا.
انہوں نے ایران مخالف ٹرمپ پالیسی اور خلیج فارس میں امریکی بحریہ کے جہاز کی موجودگی کو دہشتگردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اشتعال انگیز اقدامات سے عالمی سطح پر امریکی پوزیشن کمزور ہورہی ہے.
ان کے مطابق، امریکہ ناجائز صہیونی ریاست اور سعودی عرب کی ایما پر عالمی معاہدوں سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے.
امریکی پروفیسر نے امریکہ صہیونی سعودی اتحاد کو سامراج محاذ قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ اس اتحاد کا مقصد مشرق وسطی کے ممالک کو تباہ کرنا ہے.
انہوں نے خطے میں دہشتگردی کے خلاف ایران کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ شام میں شکست کھا گیا جس کے ردعمل میں اس نے ایران پر پابندیاں لگائیں.
رومن گرس فگیل کا کہنا تھا کہ آج مغربی ممالک منظم منصوبہ بندی کے تحت جعلی خبروں کے ذریعے عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں.
انہوں نے امریکی پابندیوں کے جواب میں ایرانی ردعمل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو چاہئے کہ امریکی اقدامات کے جواب میں دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرے کیونکہ امریکہ نے ایران پر پابندیاں لگا کر آج تنہائی کا شکار ہوا ہےجبکہ یورپ، چین اور روس بھی اس پالیسی کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں.
انہوں نے خلیج فارس میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اس کا مقصد ایرانی تیل کی برآمدات کو روکنا ہے.
پروفیسر رومن گرس فگیل نے امریکہ کو انتباہ کیا کہ وہ آگ کے ساتھ نہ کھیلے کیونکہ ایسے اقدامات سے دوسروں ملکوں کے درمیان فوجی محاذ آرائی کا امکان بھی ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر ایران جوہری معاہدے کی حمایت سے سامراج محاذ کو شکست ہوئی ہے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@