اگر امریکہ نہ ہوتا تو آج سعودی عرب میں فارسی رائج ہوتی: سینٹر گراہم

تہران، 10 دسمبر، ارنا - سنیئر امریکی سینٹر ''لینڈسے گراہم'' نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نہ ہوتا تو صرف ایک ہفتے کے اندر سعودی اپنے ملک میں فارسی بول رہے ہوتے.

جنوبی امریکی ریاست کیرولینا سے منتخب سینیٹر جو نامور سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے پہلے ریاض حکمرانوں کے بڑے حامی پہنچانے جاتے تھے، اب امریکی حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ سعودی عرب کی حمایت کو بند کرے.
انہوں نے امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی فوج بہت کمزور ہے، سعودی عرب امریکہ کی 9 فیصد تیل کی ضروریات کو پورا کرتا ہے جبکہ ہم سے زیادہ انھیں ہماری ضرورت رہتی ہے لہذا ہمیں ایسے مجرم حکمرانوں سے تعلق رکھنا نہیں چاہئے.
امریکی سینٹر نے اپنی اس گفتگو میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو جمال خاشقجی کے قتل میں براہ راست ملوث قرار دیتے ہوئے کہا کہ جتنے بھی سینیٹ اراکین نے جمال خاشقچی کے قتل کی رپورٹ پڑھے ہے ان پر یہ بات واضح ہوئی ہے کہ اس سفاکانہ جرم میں محمد بن سلمان براہ راست ملوث ہے.
انہوں نے سعودی عرب میں لبنانی وزیراعظم سعد الحریزی کے ساتھ ہونے والے سلوک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج کے بعد ہم سعودی عرب کو ہتھیار دینے کے کسی بل کا ساتھ نہیں دیں گے.
یاد رہے کہ جمال خاشقجی سعودی عرب کے شہری اور آل سعود کے نقاد تھے.
جمال خاشقجی کو استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے کی عمارت میں قتل کردیا گیا ہے.
امریکہ میں مقیم سعودی صحافی ترک شہر استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے گئے تھے، انہیں اپنی منگیتر کے سفری دستاویزات بنوانے تھے. منگیتر قونصل خانے کے باہر گیارہ گھنٹے انتظار کرتی رہی لیکن جمال قونصل خانے سے بابر نہیں آئے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@