صدر روحانی نے امریکہ کی غیرقانونی پابندیوں کے خلاف ترکی کے مؤقف کو سراہا

تہران، 8 دسمبر، ارنا- صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کی غیرقانونی پابندیوں کے خلاف ترک حکومت بالخصوص صدر اردوان کے موقف کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ایران ترکی کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات کو بڑھانے کا خواہاں ہے.

یہ بات ڈاکٹر "حسن ورحانی" نے تہران میں منعقدہ چھ ملکی کانفرنس کے دوسرے دور کے موقع پر، ترک پارلیمنٹ کے اسپیکر "بنعلی یلیدریم" کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے ایران کے خلاف امریکی انتظامیہ کی غیر قانونی پابندیوں کے مقابلے میں ترکی کے صدر اور حکومت کے قابل قدر موقف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکومت، تہران کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کے لئے ترک حکومت اور ترکی کے صدر کی کوششوں کی قدر اور ان کا خیر مقدم کرتا ہے۔
صدر روحانی نے دونوں ممالک کے تعلقات کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم ترکی میں قیام امن واستحکام کو اپنے ملک میں قیام و استحکام کے مترداف سمجھتے ہیں اسی لئے، ایران نے سنہ 2016 میں ترکی میں ناکام بغاوت کے خلاف واضح موقف اپناتے ہوئے ترکی حکومت کے استحکام اور تقویت کی حمایت کی۔
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان بینکاری اور توانائی شعبوں میں طے پانے والی معاہدوں کے نفاذ پر زور دیا۔
صدر روحانی نے امت مسلمہ کے مسائل کے حوالے سے ترکی صدر کے تعمیری موقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطے کے مفادات کے خلاف اسی طرح کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرنا چاہیے جن کی بنا پر دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات اور باہمی تعاون پر منفی اثرات مرتب ہوجائیں۔
انہون نے مزید کہا کہ ایران اور ترکی نے کئی سالوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیاں دی ہیں اور اسی لئے دہشتگردی کی روک تھام کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون ناگزیرہے۔
اس موقع پر ترک پارلیمنٹ کے اسپیکر نے ایران مخالف امریکی پابندیوں کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم کسی بھی صورت میں ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
انہوں نے ایران کے ساتھ کثیرالجہتی تعلقات کی توسیع پر زور دیتے کہا خطے میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے دونوں ممالک کے مشترکہ تعاون ضروری ہے۔
9467*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@