دہشتگردی کیخلاف مشترکہ تعاون کیلئے سنجیدہ رویہ اپنانا ہوگا: ایرانی صدر

تہران، 8 دسمبر، ارنا - ایرانی صدر نے ہمسایہ ممالک کے درمیان انسداد دہشتگردی سے متعلق تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لئے سنجیدہ رویہ اختیار کرنا ہوگا.

یہ بات ڈاکٹر ''حسن روحانی'' نے ہفتہ کے روز تہران میں چھ ملکی اسپیکرز کانفرنس کے موقع پر پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر ''اسد قیصر'' کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے کہا کہ 6 ملکی اسپیکرز کانفرنس ایک تعمیری تجویز تھی جس پر عمل کیا گیا اور اس کے ذریعے سے خطے میں قیام امن و سلامتی کو مزید مضبوط بنایا جاسکتا ہے.
صدر روحانی نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خلاف بلا امتیاز مقابلہ سب کے لئے اہمیت رکھتا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ جنہوں نے ماضی میں دہشتگرد گروہوں کو بنایا وہ در حقیقت علاقائی اقوام سے بڑی غداری کی ہے.
ایرانی صدر نے کہا کہ امریکہ اور سویت یونین کی پراکسی وار کے دوران متعدد دہشتگرد گروہوں کی تشکیل ہوئی جنہوں نے آگے چل مختلف نام اور مقاصد میں کاروائیوں کیں.
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی انقلاب کے بعد ایران نے کسی کے ساتھ جنگ کا راستہ اختیار نہیں کیا جبکہ عالمی قوتوں نے دہشتگرد گروہوں کی تخلیق اور انھیں حمایت کی. امریکہ، مغربی ممالک اور ناجائز صہیونی ریاست ایران میں دہشتگردوں کی حمایت کرنے والوں میں سے ہیں.
صدر روحانی نے پاک ایران تعلقات سے متعلق کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات قائم ہیں جن پر لازم ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سنجیدہ اقدامات اٹھائیں.
انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان دوستی اور امن کی سرحد قائم ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض عناصر سرحدوں سے غلط فائدہ اٹھارہے ہیں.
ایرانی صدر نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایران اور پاکستان کی سیکورٹی فورسز کے درمیان بہتر تعاون کی مدد سے مشترکہ سرحدوں میں قیام امن و سلامتی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا.
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ پاکستانی فوج کے سنجیدہ تعاون سے دہشتگردوں کے ہاتھوں یرغمال ہونے والے باقی کے 7 ایرانی سرحدی اہلکاروں کو جلد بازیاب کرایا جائے گا.
ڈاکٹر روحانی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پاکستان کے ساتھ معاشی، ثقافتی اور سائنسی شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لئے آمادہ ہے.
انہوں نے تجارتی اور معاشی شعبوں میں مشترکہ تعاون کو درپیش مسائل کے خاتمے کے لئے تہران اور اسلام آباد کے درمیان بینکاری چینل کی بحالی کا مطالبہ کیا.
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ چابہار اور گوادر کی بندرگاہیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، گوادر سے چین تک رسائی ممکن ہوگی جبکہ روس، وسطی ایشیا اور یورپی خطے تک رسائی کے لئے چابہار کو اہم مقام حاصل ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ ایران پاکستان کی توانائی ضروریات بالخصوص بجلی، گیس اور تیل کو طویل المدت کے لئے فراہم کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے.
ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ دوست ممالک کے درمیان تعلقات کے فروغ کے لئے امریکہ کی غنڈہ گری اور پابندیوں کا مل کر مقابل کرنا ہوگا اور باہمی تعلقات کو مزید بڑھانے کے لئے تعمیری طریقہ کار اپنانا چاہئے.
اس ملاقات میں پاکستانی اسپیکر نے چابہار میں حالیہ دہشتگردی کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اس حملے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا.
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان علاقائی امن و سلامتی بالخصوص دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایران کے ساتھ کسی بھی طرح کے تعاون کے لئے آمادہ ہے.
اسد قیصر نے بتایا کہ پاکستانی قوم کے لئے ایران ایک دیرینہ اور قریبی برادر اور اسلامی ملک ہے اور دنوں ممالک کے درمیان تجارتی اور معاشی تعاون کو بڑھانا ہماری پہلی ترجیح ہوگی.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@