اوپیک تنظیم، تیل پیداوار سے متعلق کسی بھی فیصلے کو قبول نہیں کریں گے: ایران

تہران، 6 دسمبر، ارنا - ایرانی وزیر تیل نے یہ واضح کردیا ہے کہ جب تک ہمیں پابندیوں کا سامنا رہے گا ہم تیل پیداوار کی سطح میں کمی لانے سے متعلق اوپیک تنظیم کے کسی بھی فیصلے میں شامل نہیں ہوں گے.

یہ بات ''بیژن نامدار زنگنہ'' نے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (OPEC) کے 175ویں اجلاس میں شرکت کے لئے ویانا پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ایران اور اوپیک تنظیم کے درمیان ہمیشہ دیرینہ اور تعمیری تعاون رہا ہے اور ہم نے ہر سطح اور فورم پر اوپیک کے فیصلوں کی حمایت کی ہے مگر آج ایران کو پابندیوں کا سامنا ہے لہذا تیل پیداوار کی سطح سے متعلق کسی بھی فیصلے سے ہمیں استثنی دینی ہوگی.
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے تیل مارکیٹ میں استحکام لانے کے لئے اوپیک کے فیصلوں کا ساتھ دیا ہے تاہم آج کی صورتحاک کچھ اور ہے اور جب تک پابندیاں رہیں گی ہم تیل پیداوار سے متعلق کسی بھی فیصلے میں شامل نہیں ہوں گے.
بیژن نامدار زنگنہ نے بتایا کہ اس وقت اوپیک تنظیم میں تیل پیداوار کو کم کرنے کی متعدد تجاویز زیر غور ہیں تاہم جو رکن ممالک اپنی پیداوار کم کرنا چاہتے ہیں انھیں فیصلہ کرنا ہوگا.
انہوں نے ایرانی تیل کی پیداوار اور برآمدات سے متعلق کوئی بات نہیں کی کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس صورت میں ایران پر امریکی دباؤ میں اضافہ ہوگا.
ایرانی وزیر تیل نے مزید کہا کہ اوپیک امریکی محکمہ توانائی کا ایک حصہ کہ امریکی احکامات پر عمل کرے بلکہ یہ ایک مستقل ادارہ ہے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@