ایران، امریکی دباؤ میں نہیں آئے گا: ترجمان دفترخارجہ

تہران، 5 دسمبر، ارنا - ایرانی دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران موثر پلاننگ اور بہتر نظام کے ذریعے موجودہ حالات سے گزرے گا اور ہرگز امریکی دباؤ اور اقدامات کے سامنے نہیں جھکے گا.

ان خیالات کا اظہار ''بہرام قاسمی'' نے بدھ کے روز تہران مین ارنا نیوز ایجنسی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا.
اس اجلاس میں ارنا نیوز ایجنسی کے سربراہ، سنیئر ڈائیکٹرز، صوبائی دفاتر کے سربراہ اور چیف ایڈیٹرز شریک تھے.
ایرانی ترجمان نے کہا کہ امریکہ نے دنیا کے مختلف علاقے بالخصوص ہمسایہ ممالک میں مخصوص مراکز قائم کردئے ہیں جس کا مقصد ایران کے ساتھ معاشی سرگرمیوں کو روکنا ہے مگر ایران موثر پالیسی اور پلاننگ کے ذریعے ان حالات پر قابو پالے گا.
انہوں نے مزید کہا کہ ایسا نہیں کہ ہم ان کے دباو میں آئیں گے اور اس صورتحال سے نہ نکل سکتے، وہ جلد بہ دیر اپنے اقدامات پر پچتاوا ہوگا، ایران کے پاس مختلف ذرائع اور وسائل ہیں جن کے ذریعے سے ہم موثر منصوبہ بندی کرکے مشکلات پر قابو پالیں گے.
بہرام قاسمی نے کہا کہ ایران نے عالمی قوتوں کے ساتھ ایک طویل عرصے کے مذاکرات کے بعد جوہری معاہدہ کیا جس کی مدد سے دنیا میں امن و سلامتی کو مزید مضبوط کیا جاسکتا ہے مگر ٹرمپ جیسے افراد اور خطے میں امریکہ کی جارحانہ پالیسی نے تمام سفارتی کوششوں کو بری طرح متاثر کیا.
انہوں نے مزید کہا کہ آج ہمیں دشوار ترین صورتحال کا سامنا ہے. امریکہ محکمہ خزانہ میں ایک عظیم سیل قائم کردیا گیا ہے جس کی نگرانی میں دنیا کے مختلف علاقوں میں مخصوص مراکز قائم کئے گئے ہیں جس کا اصل مقصد ایران کے دوسرے ممالک کے ساتھ معاشی تعاون کو نقصان پہنچانا ہے.
ایرانی دفترخارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ آج دنیا سیاسی طور پر جوہری معاہدے کی بھرپور حمایت کرتی ہے. چین، روس بلکہ لاطینی امریکی ممالک بھی اس معاہدے کے حق میں ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسے تحفظ ملے.
انہوں نے ہمسایہ ممالک کو ایران کے لئے اہم قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکی حکام آئے روز ان ممالک کے دورے کرتے ہیں تا کہ ایران اور پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات کو متاثر کیا جاسکے تاہم امریکہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکا.
قاسمی نے ایران سعودی تعلقات سے متعلق کہا کہ ایران نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں مثبت موقف اپنایا تھا مگر اس حوالے سے کوئی عملی پیشرفت نہیں ہوئی بلکہ سعودی عرب آج بھی اپنے غلط مؤقف پر ڈٹا ہوا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے سعودی عرب، امارات اور بحرین کے ساتھ تعلقات میں مسائل ہیں جبکہ دوسرے ملکوں کے ساتھ ہمارے تعلقات معمول کے مطابق ہیں.
قاسمی نے بتایا کہ ان میں سے بعض ممالک کے ساتھ غیرمعمولی تعلقات قائم ہیں. اس کے علاوہ قفقاز خطے کی ریاستیں، ترکی، پاکستان اور افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات بہتر ہورہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ عراق ہمارا ایک اہم ہمسایہ کی حیثیت سے ترقی، امن و استحکام کی طرف آگے بڑھے گا.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@