ایران نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 سے متعلق امریکی دہرے معیار کو مسترد کردیا

نیو یارک، 5 دسمبر، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران نے جوہری معاہدے سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 پر امریکہ کے دہرے معیار کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ قراداد کے نکات کو توڑ مروڑ کر پیش کررہا ہے.

اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کے ایک جاری کردہ بیان کے مطابق، سلامتی کونسل کی قرارداد میں ایران کی میزائل سرگرمیوں پر نہ تو کوئی پابندی ہے اور نہ ہی اسے محدود کرنے کا کہا گیا ہے.
اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران قرارداد 2231 سے متعلق امریکہ کی خودساختہ منطق اور اس کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے میزائل پروگرام کو سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق سمجھتا ہے.
بیان کے مطابق، ایران نہیں بلکہ امریکہ اس قرارداد کی خلاف وزری کا مرتکب ہوا ہے. ایران کی پُرامن میزائل سرگرمیوں کو غیرتعمیری دیکھانا اور انھیں علاقے کے لئے خطرہ قرار دیا جانا امریکہ کی دشمن پالیسی اور حیلے بہانے کے سوا کچھ نہیں.
اقوام متحدہ میں ایرانی میشن نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایران جوہری معاہدے جسے سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی حمایت حاصل ہے، علیحدگی امریکی خلاف ورزیوں کی ایک مثال ہے.
امریکہ نہ صرف خود سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد نہیں کرتا بلکہ وہ دوسرے ممالک کو بھی ان قراردادوں بالخصوص قرارداد نمبر 2231 پر عمل نہ کرنے پر دباؤ ڈالتا ہے اور انھیں دھمکی دیتا ہے کہ اگر وہ امریکی مطالبے پر عمل نہ کریں تو انھیں اس کے بدلے میں سزا دی جائے گی.
بیان کے مطابق، امریکہ کی یہ کوشش ہے کہ وہ قرارداد 2231 سے متعلق جعلی اطلاعات دے کر اسے ایران کے خلاف استعمال کرے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@