قطر اوپیک سے علیحدگی کے بعد ایرانی تیل کی فروخت کرسکے گا

باکو، 5 دسمبر، ارنا - آسٹریلیا کی ایک بین الاقوامی تجارتی مشاورتی کمپنی کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ قطر اوپیک تنظیم سے الگ ہونے کے بعد ایشیائی اور یورپی مارکیٹ میں ایرانی تیل کی فروخت کے لئے ماحول بناسکتا ہے.

یہ بات ایس بی آئی کمپنی کے ڈائریکٹر ''سم بارڈن'' نے آذربائیجان کی نیوز ایجنسی Trend سے گفتگو کرتے ہوئے کہی.
ان کا کہنا تھا کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم "اوپیک" سے علیحدگی پر قطر کا فیصلہ سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے درست ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ اوپیک میں شامل رہنے سے قطر کو کچھ حاصل نہیں ہونا تھا کیونکہ دیگر رکن ممالک کے مقابلے میں قطر تیل پیدا کرنے والا سب سے چھوٹا ملک ہے اور اوپیک کے قوانین کے مطابق چلنا قطر کے لئے فائدہ مند نہیں تھا.
آسٹریلوی کمپنی کے ڈائریکٹر نے کہا کہ قطر کو تیل کے بجائے گیس پر توجہ رکھنی ہوگی کیونکہ آج دنیا میں تیل سے زیادہ گیس کا مستقبل روشن ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ قطر عالمی سطح پر بالخصوص تہران اور ماسکو کے ساتھ گیس شعبے میں مشترکہ تعاون کو مزید فروغ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے.
سم بارڈن نے بتایا کہ ایران، روس، چین اور بعض دیگر ممالک امریکی پابندیوں سے بچنے کے لئے آپس کی تجارتی سرگرمیوں میں ڈالر کا استعمال بند کرنے جارہے ہیں لہذا اس مسئلے کے پیش نظر اوپیک سے نکلنے کا قطری فیصلہ درست ثابت ہوتا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے کے بعد قطر ایشیائی اور یورپی منڈیوں میں ایرانی تیل کی فروخت میں کردار ادا کرسکتا ہے بلکہ وہ مارکیٹ کی تیل ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے.
سم بارڈن کا کہنا تھا کہ قطر کے فیصلے کے بعد رونما ہونے والی تبدیلیوں سے تجارتی نظام میں امریکی ڈالر کے گرنے کے اسباب فراہم ہوں گے جس سے دنیا میں امن و آزادانہ تجارت کو فائدہ ملے گا.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@