جوہری معاہدہ؛ ایران کو نکلنے پر مشتعل نہ کیا جائے: روس کا انتباہ

ماسکو، 4 دسمبر، ارنا - روس نے ایران جوہری معاہدے کے فریقین کو خبردار کیا ہے کہ ایسا کوئی اقدام نہ کیا جائے جس کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ ایران جوہری معاہدے سے نکلنے پر مشتعل ہو.

روسی صدر کے ترجمان ''دمتری پیسکوف'' نے اپنے ایک بیان میں ایران جوہری معاہدے کے فریقین کو انتباہ کیا ہے کہ ایران کو اس معاہدے سے نکلنے پر مشتعل نہ کیا جائے.
انہوں نے ایران جوہری معاہدے کے مقابلے میں کوئی اور معاہدہ لانے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدے کا کوئی نعم البدل نہیں اور روس بھی دوسری ممالک کی طرح اس معاہدے کے مکمل تحفظ چاہتا ہے.
روسی ترجمان نے جوہری معاہدے کے فریقین سے اپیل کی ہے کہ ایسا کوئی قدم نہ اٹھاجائے جس سے ایران مشتعل ہو اور معاہدے سے نکلنے کا فیصلہ کرے.
انہوں نے خبردار کیا کہ جوہری معاہدے سے ایران کی علیحدگی سے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور اسی بنیاد پر ہم پہلے سے ہی امریکی علیحدگی کی مذمت کرچکے ہیں.
دمتری پیسکوف نے ایران مخالف امریکی پابندیوں کو سلامتی کونسل کے فیصلوں کے منافی قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ دنیا کے دوسرے ممالک کے ایران کے ساتھ دوطرفہ تعاون یا چند فریقی معاشی سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے.
انہوں نے کہا کہ روس کے ایران کے ساتھ دیرینہ اور قریبی تعلقات قائم ہیں اور ہماری نظر میں ایران علاقائی مسائل کے حل بالخصوص شام سے متعلق اہم کردار ادا کررہا ہے.
دمتری پیسکوف نے مزید کہا کہ ایران کے کردار کو نظرانداز کرنا غلط اور غیرتعمیری ہوگا.
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ 8 مئی کو غیرقانونی طور پر ایران جوہری معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کردیا اور اس کے علاوہ ایران پر امریکی پابندیاں عائد کرنے کا بھی حکم جاری کردیا.
امریکی صدر نے ایران کو تنہائی کا شکار کرنے کے لئے اقتصادی دباؤ اور پابندیاں کا طریقہ کار اپنایا ہوا ہے جبکہ ایران نے اپنے وعدوں پر عمل کیا اور عالمی جوہری ادارہ بھی اس بات کی بارہا تصدیق کرچکا ہے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@