ایرانی تیل کی فروخت یورپی مالیاتی میکنزم کا اہم حصہ ہے: ظریف

تہران، 4 دسمبر، ارنا - ایرانی وزیرخارجہ نے ایران یورپ مالیاتی میکنزم (SVP) کی فہرست سے ایرانی تیل کی فروخت کو ہٹانے کے رائٹرز نیوز ایجنسی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی تیل کی فروخت اس نظام کا ایک اہم حصہ ہے.

''محمد جواد ظریف'' نے برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے دعوے پر اپنے ردعمل میں مزید کہا کہ ایران کی بیشتر برآمدات تیل پر مشتمل ہوتی ہیں لہذا ایسی بے بنیاد رپورٹس کا اصل مقصد نفسیاتی جنگ اور ایرانی عوام کو مایوس کرنا ہے.
ظریف نے بتایا کہ یورپی حکام جوہری معاہدے کو اپنی سلامتی کے لئے اہم سمجھتے ہیں لہذا انھیں اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے جوہری معاہدے کے تحفظ کے لئے اقدامات اٹھانے ہوں گے.
انہوں نے مزید کہا کہ ایس وی پی میکنزم پر ایران اور یورپ کے درمیان تینیکی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے جس کا مشترکہ مقصد اس نظام کا جلد نفاذ ہے اور ہمیں امید ہے کہ مخصوص مالیاتی میکنزم کی مدد سے ملک کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے گا.
ایرانی وزیر خارجہ نے ایرانی میزائل پروگرام کے خلاف اپنے امریکی ہم منصب کے حالیہ ٹوئٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے مائیک پمپئو کو تجویز دی ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کا ایک بار پھر غور سے مطالعہ کریں.
انہوں نے کہا کہ ایران پر میزائل کے تجربے سے متعلق کوئی پابندی نہیں اور قرارداد 2231 میں ان میزائلوں کی بات ہوئی جن میں جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت ہو اور ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایسے میزائل کا تجربہ نہ کرے تاہم ایران پر معمول کے مطابق میزائل تجربات پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی.
محمد جواد ظریف نے مزید کہا کہ ایران ہرگز جوہری ہتھیاروں کے استعمال کرنا نہیں چاہتا، ایرانی میزائل بھی جوہری ہتھیار لے جانے کے لئے نہیں بلکہ یہ روائتی ہتھیار لے جانے کی قابلیت رکھتے ہیں.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@