ایران کیلئے یورپی مالیاتی میکنزم کا جلد اعلان کیا جائے گا: عراقچی

اسلام آباد، 4 دسمبر، ارنا - نائب ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران اور یورپ خاص مقصد کے لئے بنائے جانے والے نظام (SPV) پر قریبی رابطے میں ہیں اور ہمیں امید ہے کہ اس خصوصی مالیاتی میکنزم کا جلد اعلان کردیا جائے گا.

یہ بات وزیرخارجہ کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور ''سید عباس عراقچی'' نے دورہ پاکستان کے موقع پر اسلام آباد میں ارنا نیوز کے نمائندے کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہی.
انہوں نے مزید کہا کہ ہم یورپ کے خصوصی مالیاتی میکنزم ایس وی پی سے متعلق یورپی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں.
عراقچی نے کہا کہ ایران جوہری معاہدے سے امریکہ کی غیرقانونی علیحدگی کے بعد یورپ نے ایران کے ساتھ مالیاتی شعبے میں لین دین کو برقرار رکھنے کے لئے ایک خصوصی میکنزم کو متعارف کرایا جس کا اصل مقصد امریکی پابندیوں کو بے اثر کرنا ہے تا کہ ایران اور مختلف ممالک کے درمیان رقوم کے لین دین بہ آسانی ممکن ہو.
انہوں نے مزید کہا کہ یورپی ممالک کا مقصد ہے کہ ایس وی پی میکنزم کی مدد سے وہ ایران سے خریدی جانے والی مصنوعات کی ادائیگی بہ آسانی کریں اور اس کے علاوہ ایران کو بھی بغیر کسی مشکل کے اس کی برآمدات کی ادائیگی ہوجائے.
سید عباس عراقچی نے بتایا کہ ایران کے لئے اس نظام میں شمولیت سے متعلق کوئی ایسی ناگزیر شرط تو نہیں ہے مگر اس نظام کو چلنے کے لئے کچھ ایسے قوانین ہیں جن پر ایرانی بینکوں کو عمل کرنا ہوگا تا کہ وہ اس میکنزم سے فائدہ اٹھاسکیں.
انہوں نے کہا کہ ایرانی بینک جو اس وقت امریکی پابندیوں کی زد میں ہیں، اگر مالی وسائل کی ترسیل پر نظر رکھنے والی بین الاقوامی تنظیم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کی بھی پابندیوں کا نشانہ بنیں تو یقینی طور پر وہ یورپی میکنزم کے ساتھ نہیں چل سکتے، تاہم یہ شرط تو نہیں مگر یورپی میکنزم یا کسی اور مالیاتی نظام کے تحت کام کرنے کے لئے یہ مسئلہ اہم ہے.
اعلی ایرانی سفارتکار کا کہنا تھا کہ اگر FATF کی پابندیاں دوبارہ لگ جائیں جس سے ایرانی بینک ملفوج ہوں اس صورت میں ہمارے بینک نہ صرف یورپ کے ساتھ کام نہیں کرسکتے بلکہ وہ چین اور روس کے ساتھ بھی لین دین نہیں کر پائیں گے.
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پارلیمنٹ، گارڈین کونسل اور ایکسپیڈینسی کونسل ایف اے ٹی ایف سے متعلق ایک مشترکہ نتیجے پر پہنچیں جس میں وطن عزیز ایران کا فائدہ ہو کیونکہ اسی کے ذریعے سے ہی ایرانی بینکوں کے عالمی سطح پر تعاون کی راہ کو ہموار کیا جاسکتا ہے.
سید عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران، یورپی حکام کے ساتھ قریبی مشاورت کررہا ہے ان کی یہی ترجیح ہے کہ خصوصی مالیاتی میکنزم کا حتمی مرحلہ طے ہونے تک اس حوالے سے زیادہ تفصیلات نہ بتائی جائیں.
اس موقع پر انہوں نے ایران پاکستان سیاسی مشاورت کے نئے دور پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دورہ اسلام آباد کے موقع پر وزیر خارجہ اور سیکریٹری خارجہ کے ساتھ تعمیری گفتگو ہوئی. دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کے علاوہ تازہ ترین علاقائی صورتحال، مختلف عالمی امور بالخصوص ایران جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بعد رونما ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا.
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان بالخصوص یمن کی صورتحال اور وہاں کے انسانی بحران سے متعلق بھی مذاکرات ہوئے. افغانستان ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر ایران اور پاکستان خطے میں مشترکہ طور پر تشویش رکھتے ہیں.
عراقچی نے کہا کہ سوئڈن میں یمن سے متعلق نئے مذاکراتی عمل کا آغاز کردیا گیا جس کی نگرانی اقوام متحدہ کررہی ہے، اس میں تمام یمنی فریقین بشمول حوثی شامل ہیں، ایران اور پاکستان دونوں اس عمل کا خیرمقدم کرتے ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں یمن میں بحران کو کے خاتمے کے طریقہ کار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا.
سید عباس عراقچی نے کہا کہ اس وقت ایران اور پاکستان اقوام متحدہ کی نگرانی میں یمنی فریقین کے درمیان ہونے والے نئے مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@