عراق کے طاقتور سیاسی اتحاد سائرون نے ایران مخالف امریکی الزام کو مسترد کردیا

بغداد، 3 دسمبر، ارنا - عراق کے طاقتور سیاسی اتحاد سائرون نے ایران عراق تعلقات کو خراب کرنے کے مقصد سے امریکہ کے الزام کو مسترد کردیا ہے.

برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف نے گزشتہ دنوں کسی کا نام ظاہر کئے بغیر نام نہاد سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایران نے عراق میں اپنے سیاسی مخالفین کو مٹانے کے لئے مخصوص ٹیم بھیجی ہے.
عراقی مسائل کے ماہر اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ برطانوی میڈیا کی جانب سے ایسی رپورٹ کی اشاعت ایران پر امریکی دباؤ بڑھانا اور ایران مخالف پالیسی کو ہوا دینا ہے اور اس کے علاوہ ایران عراق تعلقات کو بھی متاثر کرنا ہے.
مقتدی صدر کی قیادت میں عراق کی سیاسی تحریک نے اس رپورٹ پر شدید ردعمل دیا اور کہا کہ یہ ایک امریکی منصوبہ ہے جس کا مقصد عراق میں بدامنی پھیلانا ہے.
سائرون سیاسی اتحاد کے ایک رہنما ''عباس عیلوی'' نے عراقی نیوز ایجنسی بغداد الیوم کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران مخالف الزام کو مسترد کردیا.
انہوں نے سائرون کے اعلی رہنما سید مقتدی صدر کو قتل کرنے کی افواہوں سے متعلق کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں اور مقتدی صدر کی جان کو درپیش خطرہ بہت پہلے سے ہی ہے اور ایسی باتیں ہمیشہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی جاتی ہیں.
عباس علیوی نے مزید کہا کہ مقتدی صدر کی جان کو خطرہ تھا اور ابھی بھی ہے جو زیادہ تر امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست کی جانب سے ہے.
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور صہیونیوں کے جاسوس عراق میں سرگرم ہیں جن کا ایک ہی مقصد ہے مقتدی صدر کو راستے سے ہٹانا.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@