پاکستان، ایران مخالف امریکی پابندیوں کے سامنے مزاحمت کرے: پاکستانی سابق سفیر

اسلام آباد، 29 اکتوبر، ارنا – ایران میں سابق پاکستانی سفیر نے اپنی حکومت سے ایران مخالف امریکی پابندیوں کے سامنے مزاحمت کرنے کا مطالبہ کیا.

یہ بات پاکستان کے نامور تجزیہ نگار 'آصف درانی' نے پاکستانی ڈیلی ٹائمز میں ایران مخالف امریکی پابندیوں سے متعلق اپنے نشر ہونے والے مضموں میں کہی.

انہوں نے کہا کہ ایران مخالف امریکی پابندیوں کا نیا دور 5 اکتوبر سے آغاز کیا جائے گا لیکن ایرانی عوام کے خلاف امریکہ کی معیشتی پابندیاں عائد کرنا ایک نئی بات نہیں ہے کیونکہ اس ملک نے اس سے پہلے بارہا امریکی حکام کیجانب سے عائد ہونے والی پابندیوں کے خلاف مزاحمت کی ہے.

آصف درانی نے کہا کہ امریکہ نے 1996 کو ایرانی تیل کی صنعت میں 10 ملین ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کرنے والے ممالک کو پابندی لگانے کی دہمکی دی تاہم دوسرے ممالک نے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کو جاری رکھا جبکہ امریکہ نے 2013 میں ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کو بہانہ بناکر ایران کے خلاف سخت پابندیوں کا ایک سلسلہ دوبارہ شروع کردیا لیکن اس پابندیوں کا ایرانی معیشت پر کوئی اثر نہیں پڑا.

سابق پاکستانی سفیر نے ایرانی ایٹمی سرگرمیوں کی کمی کے لیے 2015 میں ایران اور گروپ 5+1 کے درمیان طے ہونے والے جوہری معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بعد فرانس، چین ، جنوبی کوریا، جاپان اور بہارت نے ایران میں تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر دلچسبی کا اعلان کیا.

انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف بین الاقوامی عائد پابندیوں کے باوجود چین، جنوبی کوریا، جاپان اور بہارت ابھی بھی ایرانی تیل کی خریداری کر رہے ہیں.

انہوں نے کہا کہ ان ممالک نے ایران مخالف امریکی پابندیوں کو روکنے اور بے اثر کرنے کے لئے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کا آغاز کیا ہے.

انہوں نے کہا کہ امریکہ، ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنا کے ساتھ ساتھ ایرانی نظام کی تبدیلی اور ایران کے امن کو درہم برہم کرنا چاہتا ہے.

پاکستانی عھدیدار نے کہا کہ ایران امریکہ کے اقدامات کے ساتھ سختی سے مقابلہ کرنے کے علاوہ چین، روس اور ترکی جیسے دوست ممالک کے ساتھ باہمی تعلقات کو مزیدمضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے.

انہوں نے بے شک ایران کے ساتھ باہمی تعلقات کو فروغ دینا پاکستان کے مفاد میں ہے.

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ترکی کی طرح امریکی ایران مخالف پابندیوں کے سامنے مزاحمت کرنا اور اپنی موجود صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ اپنے تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینا چاہیے.

9410*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@