اقوام متحدہ خاشقجی کے قتل کے ملوث عناصر کو گرفتار اور سزا دے

کوالالمپور، 28 اکتوبر، ارنا – ملائیشیا کی اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین نے خاشقجی کے قتل کو سعودی عرب کی رسوائی کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ اس ظالمانہ قتل کے ملوث عناصر کو گرفتار اور سزا دے.

یہ بات "محمد عظمی عبدالحمید" جنہوں نے ایشیائی اسلامی اسمبلی کے سیکرٹریٹ کے سربراہ ہیں اتوار کے روز ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ترکی میں واقع سعودی قونصلر میں صحافی جمال خاشقجی کا قتل ایک لرزہ خیز واردات تھی اور یہ اسلامی حکومت کے لئے ایک شرمناک واقعہ اور اس اقدام کی حقیقت کو چھپا نہیں سکتا ہے.
عبدالحمید نے کہا کہ سعودی عرب خاشقجی کے منصوبہ بندی شدہ قتل کے نتیجے میں عالمی غصے کی مذمت نہیں کرسکتا ہے اور اس ملک کو عالمی برادری کے مطالبات کو جواب دینا چاہئیے.
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب خادم الحرمین الشریفین کا دعوی کر رہا ہے مگر ایسے وحشیانہ اقدام اس کی عالمی پوزیشن کے لئے بڑا خطرہ ہے.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری اس قتل کی ذمہ دار ہے لہذا اس کو اس سلسلے میں سنجیدہ اور باضابطہ موقف کا اعلان کرنا چاہیئے.
ملائیشیائی عہدیدار نے کہا کہ عالمی برادری کو سعودی عرب سے ایسے قتلوں کے خاتمہ دینے کا مطالبہ کرنا چاہیئے اور بدقسمتی سے اس ملک کے ساتھ مالیاتی تعلق رکھنے والے اسلامی ممالک اس ظالمانہ واقعے پر خاموش ہیں.
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ انسانی حقوق کی مبنی پر آل سعود کے ایسے وحشیانہ اقدام کے خلاف سنجیدہ موقف اپنائے.
یاد رہے کہ جمال خاشقجی سعودی عرب کے شہری اور آل سعود کے نقاد تھے.
جمال کو استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے کی عمارت میں قتل کردیا گیا ہے.
امریکہ میں مقیم سعودی صحافی ترک شہر استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے گئے تھے، انہیں اپنی منگیتر کے سفری دستاویزات بنوانے تھے. منگیتر قونصل خانے کے باہر گیارہ گھنٹے انتظار کرتی رہی لیکن جمال قونصل خانے سے بابر نہیں آئے.
9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@