یورپی یونین کا ایران سے اقتصادی تعاون کا خصوصی میکینزم آمادہ ہے: رائٹرز

تہران،24 اکتوبر،ارنا- رائٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق، ایران جوہری معاہدے کے تحفظ کیلئے یورپ کا نیا میکینزم، 4 نومبر کو شروع ہوجائے گا لیکن اس کی مکمل آپریشنلائزیشن، اگلے سال کے آغاز تک ملتوی کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کا نیا میکینزم، یورپی اتحاد کے اصولوں کے تحت یورپ کی کمپنیوں کو ایران کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رکھنے کا امکان فراہم کر رہا ہے۔
رائٹرز نیوزایجنسی نے مزید لکھا ہے کہ یورپی یونین در اصل اسی میکینزم کے ذریعے ایران جوہری معاہدے کے تحت اپنے کیے گئے وعدوں پر عملی جامہ پہنانے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہتا ہے۔
اس رپورٹ میں مزید آیا ہے کہ یورپ، ایران جوہری معاہدے کی حمایت کرنے کے سلسلے میں اپنی کوششیں جاری رکھنے کی یقین دہانی کرانا چاہتا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین نے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کے تحفظ کے لئے کئی دوسرے منصوبوں پر بھی غور کیا ہے۔
فرانس، برطانیہ اور جرمنی کا یقین ہے کہ ایران جوہری معاہدے کا تحفظ لازمی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ایران کی میزائیل سرگرمیوں سے علیحدہ ہے اور ان سرگرمیوں کی روک تھام میں بھی مدد ملتی ہے۔
اس رپورٹ میں مزید آیا ہے کہ یورپ کے نئے میکینزم سے متعلق بعض اقدامات من جملہ یورپی یونین کے خصوصی میکینزم کے لئے ہیڈکوارٹر کی فراہمی، ایجنڈے میں شامل ہے اور جلدی سے آپریشنل ہوجائے گا۔
یورپی یونین نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ روس اور چین کی حمایت سے ایران جوہری معاہدے پر قائم رہے اور اس معاہدے سے دستبردار نہ ہوجائے۔
واضح رہے کہ امریکا کے صدر 'ڈونلڈ ٹرمپ' نے اپنے اتحادی ممالک کی تجاویز اور مشوروں کو مسترد کرتے ہوئے 8 مئی کو ایران کے ساتھ عالمی جوہری معاہدے کو منسوخ کردیا جو 2015 میں اس وقت کے امریکی صدر 'باراک اوباما' نے دیگر عالمی طاقتوں بشمول برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور امریکا کے مابین طے پایا تھا۔
امریکا نے ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے جوہری معاہدے سے دستبردار ہوتے ہوئے تہران پر دوبارہ معاشی پابندیاں عائد کردی.

**274*9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@