خاشقجی کا قتل انسانی حقوق کے عالمی دعویداروں کیلئے بڑا امتحان ہے: ایرانی صدر

تہران، 24 اکتوبر، ارنا - صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے نامور سعودی صحافی جمال خاشقجی کے ہولناک قتل کی مذمت کرتے ہوئے اس واقعے کو انسانی حقوق کے عالمی دعویدار بالخصوص امریکہ اور یورپ کے لئے ایک بڑا امتحان قرار دے دیا.

یہ بات ڈاکٹر ''حسن روحانی'' نے بدھ کے روز تہران میں کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے مزید کہا کہ جن ممالک نے خاشقجی کے قتل کے خلاف مؤقف اپنایا اور جو لوگ آج دنیا میں انسانی حقوق کے نام نہاد دعویدار بنے پھرتے ہیں، ان کے لئے یہ واقعہ ایک امتحان ہے.
ڈاکٹر روحانی نے کہا کہ خاشقی کا قتل ایک لرزہ خیز واردات تھی، کوئی یہ نہیں سوچتا تھا کہ آج کے جدید دور میں بھی منظم جرائم پر مبنی قتل ہو جس کے لئے مختلف ادارے منصوبہ بندی بھی کرے.
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں نہیں سمجھتے ہیں کہ کسی ملک کو امریکی حمایت کے بغیر ایسی واردات کرنے کی جرات نہیں.
ایرانی صدر نے کہا کہ ایسا لگتا کہ ایک قبیلہ کہیں پہ حکومت کررہا ہے جسے چاروں طرف سے سیکورٹی کی اشد ضرورت بھی ہے، لہذا خاشقجی کے قتل جیسا جرم عالمی قوتوں کی مدد کے بغیر ممکن نہیں.
انہوں نے عالمی برادری سے یہ استفسار کیا کہ ایسا کیوں ہے کہ یمن جیسی جراتمند قوم جو کئی سالوں سے بیرونی جارحیت اور بمباری کا مقابلہ کررہی ہے، اس پر دنیا خاموش ہو؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ اگر اس جارحیت کی امریکی حمایت نہ ہوتی تو کیا آج یمنی عوام پھر بھی بمباری کا نشانہ بنتے.
صدر ایران نے ترک حکومت کو تجویز دی ہے کہ سعودی صحافی کے سفاکانہ قتل سے متعلق شفاف تحقیقات اور غیرجانبدرانہ کو یقینی بنائے.
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے برادر اور دوست ملک ترکی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ خاشقجی کی تحقیقات کو شفاف طریقے سے کرائے تا دنیا حقیقت جان سکے.
ایرانی صدر نے ملک اور قوم کے خلاف جاری امریکی سازشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ 4 نومبر کے دن کو ایرانیوں کے لئے کڑوی یادداشت میں نہیں تبدیل کرسکتا.
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو تمام عالمی قوانین کی پامالی کرتے ہوئے جوہری معاہدے سے نکل گئے تھے، نے یہ دعویٰ کررکھا ہے کہ امریکہ 4 نومبر کے روز ایران پر نئی پابندیاں لگائے گا، جس کے ردعمل میں ڈاکٹر روحانی نے آج کے کابینہ اجلاس میں کہا کہ ٹرمپ اس دن ایرانیوں کے خلاف کچھ نہیں کر پائے گا اور نہ ہی امریکہ 4 نومبر کے دن کو ایرانی عوام کے لئے یوم سیاہ میں تبدیل کرسکتا ہے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@