جوہری معاہدہ؛ ایران اور فرانس پر بھاری ذمے دار عائد ہوتی ہے: خاتون نائب ایرانی صدر

تہران، 23 اکتوبر، ارنا - خاتون نائب ایرانی صدر برائے خاندانی اور امور خواتین نے کہا ہے کہ بین الاقوامی تعاون بالخصوص جوہری معاہدے سے متعلق اسلامی جمہوریہ ایران اور فرانس پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے.

یہ بات 'معصومہ ابتکار' نے پیر کے روز تہران میں فرانس کے ایک پارلیمانی وفد کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدہ سمیت مختلف عالمی معاہدوں کی توسیع کے لئے ایران اور فرانس پر بھاری ذمہ داریاں ہیں.

انہوں نے ایران اور فرانس کے درمیان دیرینہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بہت سے ثقافتی، سماجی اور اقتصادی مشترکات موجود ہیں.

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے تصدیق شدہ جوہری معاہدے نے علاقائی امن و سلامتی کے قیام، باہمی اقتصادی تعلقات اور ماحولیات، خواتین، خاندانی امور کے شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ کے لیے مواقع کو فراہم کیا ہے.

ابتکار نے کہا کہ اب امریکہ کی جانب سے اس معاہدے کو ایک سنگین چیلنج کا سامنا ہے اور اس معاہدے کے علاوہ امریکہ نے دو اور معاہدوں( پریس اور یونیسکو) کی مخالفت کی ہے.

خاتون ایرانی نائب صدر نے کہا کہ تمام امن پسند ممالک کو اجتماعی سفارتی عمل کی توسیع اور امریکہ کی ایک طرفہ پالیسیوں کے روکنے کے لیے ایسے بین الاقوامی معاہدوں کے نفاذ کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے.

ایرانی خاتون عہدیدار نے یورپی یونین میں ایران کے حوالے سے فرانس کے مثبت موقف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فرانس اس حوالے سے سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھائے.

9410*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@