غیرمشروط اور باہمی احترام پر مبنی مذاکرات ایران کی اصولی پالیسی ہے: ظریف

بیجنگ، 23 اکتوبر، ارنا - ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ غیر مشروط اور باہمی احترام پر مبنی مذاکرات اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کا اہم جز ہے لیکن ہم مسجھتے ہیں کہ اس کے باوجود امریکہ مذاکرات کے لئے آمادہ نہیں.

یہ بات 'محمد جواد ظریف' نے جاپانی نیوز ایجنسی (KYODO) کو خصوصی انٹریو دیتے ہوئے کہی.
انہوں نے مزید کہا کہ ایران، غیرمشروط اور باہمی احترام پر مبنی مذاکرات پر یقین رکھتا ہے مگر امریکہ مذاکرات کے لئے تیار نہیں.
ظریف نے اس بات پر زور دیا کہ جب امریکی انتظامیہ مذاکرات کے لئے باہمی احترام کے روئے کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرے تب ایران بھی غیرمشروط اور شفاف مذاکرات کے لئے تیار ہوگا.
کیوڈو نیوز ایجنسی نے ایرانی وزیر خارجہ کے حوالے سے کہا کہ ہم امریکہ سے مذاکرات کو کسی خاص بات پر مشروط نہیں کرتے تاہم کسی بھی مذاکرات کے لئے بھروسہ نہیں بلکہ باہمی احترام کا ہونا ضروری ہے.
ظریف کا کہنا تھا کہ جب دو شخص آپس میں مذاکرات کررہے ہوں تو شاید وہ ایک دوسرے پر یقین نہ کریں جبکہ یہ ایک معمولی بات ہے لیکن مذاکرات کے دوران ایک دوسرے کا احترام ناگزیر ہے.
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں موجودہ امریکی انتظامیہ ایران کے ساتھ 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے پر قائم رہتے ہوئے مستقبل کی راہ کو ہموار بنا سکتی تھی مگر امریکہ پہلے غیرقانونی طور پر اس معاہدے سے نکل گیا اور دوسرے مرحلے میں اس نے ایران پر ایک بار پھر پابندیاں عائد کردیں جبکہ یہ تمام اقدامات غیرقانونی ہیں.
ظریف کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ میں موجود حکومت گزشتہ اڑھائی سال کی سفارتی کوششوں سے حاصل ہونے والے معاہدے کو اچانک خیرباد کہے تو یہ کیسا ہوسکتا ہے کہ دیگر عالمی معاہدوں سے متعلق امریکہ پر بھروسہ کیا جائے.
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی علیحدگی کے باوجود ایران نے جوہری معاہدے پر عمل کیا اور اب بھی اپنے وعدوں پر قائم ہے تاہم جب تک یہ معاہدہ ہمارے قومی مفادات کے مطابق ہو ہم اس پر عمل کرتے رہیں گے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@