جوہری معاہدے کے ممکنہ خاتمے سے کامیاب سفارتی عمل کو شکست ہوگی: ایران

تہران، 22 اکتوبر،ارنا- نائب ایرانی وزیرخارجہ برائے سیاسی امور نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے کے ممکنہ خاتمے سے نہ صرف مشرق وسطی کے مسائل میں اضافہ ہوگا ہے بلکہ ایک کامیاب تاریخی سفارتکاری کوششوں کو بھی شکست ملے گی.

یہ بات ایرانی نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور 'سید عباس عراقچی' نے آج بروز پیر، فرانسیسی پارلیمنٹ اور سیںٹ میں ایران اور فرانس فرینڈ شپ گروپ کے سربراہوں کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے کہی۔
اس ملاقات میں فرانس کے کچھ سنیٹرز اور نمائندے بھی شریک تھے۔
نائب ایرانی وزیر خارجہ نے ایران جوہری معاہدے کے تحفظ اور نفاذ کے سلسلے میں یورپ اور فرانس کے اقدامات کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کے عملی اقدامات آپریشنل ہوجائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے ایران جوہری معاہدے کی غیرقانونی اور ایک جانبہ علیحدگی سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی کی ہے اور مذکورہ قراردادوں کی خلاف ورزی کے لئے دوسرے ممالک پر بھی دباؤ ڈال رہا ہے۔
عراقچی نے کہا کہ ایران کی علاقائی پالیسی کی بنیاد خطے میں قیام امن برقرار رکھنے پر استوار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران خطے میں عدم استحکام لانے والی دہشتگرد تنظیم آئی ایس آئی ایس کےخلاف لڑ رہا ہے اور ممالک کی جائز حکومت اور سرحدوں کی تبدیلی کے مخالف ہے۔
اس موقع پر فرانسیسی پارلیمنٹ اور سنیٹ میں ایران اور فرانس فرینڈ شپ گروپ کے سربراہوں نے کہا کہ یورپ نے اب تک ایران جوہری معاہدے کی حمایت میں متعدد اقدامات کئے تاہم یورپی یونین کی جانب سے ایران سے متعلق ایک موثر میکنزم کا نفاذ ناگزیر ہے جس کی مدد سے ایران، جوہری معاہدے کے ذریعے اپنے اقتصادی مفادات حاصل کرسکے گا.
انہوں نے دہشتگرد تنظیم آئی ایس آئی ایس کے خلاف جنگ میں ایران کے اہم کردار کی قدردانی کی۔
*9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@