روس کا ایران اور شنگہائی تعاون تنظیم کے درمیان باہمی تعاون بڑھانے کا خواہاں

ماسکو، 21 اکتوبر، ارنا - روسی فیڈریشن کی ریاست ڈوما کے تعلیم اور سائنس کمیشن کے سربراہ نے شانگھائی تنظیم کے فریم ورک میں علاقائی تعاون کی توسیع کے لیے اپنے ملک کی دلچسبی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس تنظیم کے ذریعے ایران کیساتھ باہمی تعاون کو مزید بڑھانے کے خواہاں ہیں.

یہ بات 'ویاچسلاو نیکونوف' نے گزشتہ روز ماسکو میں ایران، بھارت اور روس کے درمیان منعقدہ سہ فریقی نشست میں گفتگو کرتے کہی.

انہوں نے ایران اور روس کے درمیان برھتے ہوئے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان شامی بحران اور بحیرہ کسپین کے مسائل کے حل کے لیے قریبی تعاون قائم ہے.

انہوں نے ایران کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے لئے بھارت کی دلچسبی اور بھرپور کوشش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت، ایران کا ایک اور اہم پارٹنر ہے اسی لیے امریکہ نے بہارت کو پابندیاں لگانے کی دہمکی دی ہے.

روسی عہدیدار نے روس کے خلاف امریکہ کی پابندی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ روس طویل عرصے سے امریکی پابندیوں کا شکار ہے اور امریکہ نے 2014 سے اب تک روس کے خلاف پابندیوں سے متعلق 60 سے زائد پیکجوں کو پیش کردیا ہے.

انہوں نے کہا کہ ایران اور روس کے درمیان جوہری تعاون سے امریکی کی ناراضگی اور دوطرفہ تعلقات کے راستے میں امریکی رکاوٹوں کے باوجود روس، بوشہر کے جوہری توانائی پلانٹ کے فروغ میں باہمی شراکت داری کر رہا ہے.

تفصیلات کے مطابق، ایران، روس اور بھارت کی تین فریقی نشست 19 اکتوبر سے دو دن تک ماسکو میں منعقد ہو گئی.

9410*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@