اپنی سرزمین ہرگز پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے: ایرانی سفیر

اسلام آباد، 20 اکتوبر، ارنا - پاکستان میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی صورت اپنی سرزمین برادر اسلامی ملک پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا.

یہ بات 'مہدی ہنردوست' نے اسلام آباد میں پاکستانی کالم نگاروں اور اینکرز کے بین الاقوامی فورم (IFPCA) کے اراکین کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے ایران اور پاکستان کو ایک جان دو قالب‘ اور دنیا کے دو طاقتور ترین اسلامی ممالک سے تعبیر کیا، ان کا کہنا تھا کہ اللہ کے فضل و کرم سے ایران اور پاکستان دنیا کے نقشے پر ہمیشہ رہنے کے لئے بنے ہیں، ہماری تہذیب و تمدن ایک اور ہم اسلام کا لازوال رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔
مہدی ہنردوست نے کہا کہ ایران اور پاکستان کو دور کرنے کی کوششیں ہوئیں لیکن دونوں برادر ممالک کی عوام ایک دوسرے سے محبت کرتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ ہمارے معاملات اس وقت تک بہتر نہیں ہو سکتے جب تک وہ میرٹ اور انصاف کی بات نہیں کرتا.
ایرانی سفیر نے یہ استفسار کیا کہ مجھے بتایا جائے جب امریکی صدر ریاض سے واپس گئے انہوں نے جہاز سے ہی ٹویٹ کیا کہ امریکیو! تمہارا صدر تمہارے لئے نوکریاں اور ڈالر لیکر آرہا ہے، کیا کسی نے ان سے پوچھا کہ تم نے یہ ٹویٹ کیوں کیا ؟ وہ کون ہے جس نے ناجائز صہیونی ریاست کے ساتھ موجودہ لبنان، شام، عراق اور یمن کو باری باری تباہ کیا؟ اس کے پیچھے کون اور کس کی سازش تھی اور مجھے بتائیں کہ اب کس کا نمبر ہے؟
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں امریکہ کو خطے پر اثر انداز ہونے سے بچانے کیلئے علاقائی تعاون کو فروغ دینا ہو گا، اس کے لئے پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک کے ساتھ ہم باہمی تعاون کے لئے ہر وقت کام کرتے رہتے ہیں.
ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ پاکستان سے زائرین کی ایک بڑی تعداد ایران جاتی ہے جو پاکستان کی طرف سے امن اور بھائی چارے کے سفیر ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی شہری کلبوشن یادیو کے معاملے پر ہم پاکستانی قوم کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ایران کسی بھی صورت میں کسی بھی حال میں اپنے برادر اسلامی ملک پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں کرنے دے گا، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم کسی دہشتگرد کو سہولت دیں کہ وہ سرحد پار سے جا کر ہمارے ہی پاکستانی بہن بھائیوں کو خون میں نہلائے؟
ہنردوست نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ ایرانی عوام اور حکومت پاکستان اور پاکستانیوں سے بہت محبت کرتی ہے، ہمارے بہت سارے علاقائی مفادات ایک ہیں، ایران اور پاکستان کے تعلقات بارے بہت ساری افواہیں اور کنفیوژن پھیلائی جاتی ہیں، کلبوشن کے معاملے پر جب 2016ء میں ایرانی صدر پاکستان کے دورے پر آئے تو پاکستانی میڈیا نے بہت ہائیپ پیدا کی، جس پر ہمیں دکھ ہے، ہماری کوشش اور خواہش ہے کہ پاکستانی میڈیا اور ایرانی میڈیا کے وفود ایک دوسرے کے ممالک کا دورہ کریں تا کہ ان کو زمینی حقائق کا پتہ چلے.
انہوں ںے مزید کہا کہ ایران کو ہمارے سپریم لیڈر قیادت کرتے ہیں جن کا کوئی سیاسی و عسکری ایجنڈا نہیں لہذا وہاں کی لیڈرشپ پاکستان کے خلاف کیسے جا سکتی ہے جب ان کوئی ٹکرائو کوئی تنازعہ پاکستان سے نہیں ہے.
مہدی ہنر دوست کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہونا تو یہ چاہئے کہ پاکستان کے ٹاپ میڈیا ادارے یا سٹیٹ ایجنسیز ایک دوسرے کے ساتھ خبروں کی تصدیق و تبادلے کا کوئی میکنزم بنائیں لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا، اس لئے میرا آپ کے فورم سے اس خواہش کا اظہار ہے کہ میڈیا کے وفود کا ایران پاکستان کو تبادلہ کرنا چاہئے.
ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران کو امریکی پابندیوں کے باعث بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑا لیکن الحمد اللہ ہم نے اپنے روحانی قائد کے زیر قیادت متحد ہو کر ہر مسئلہ کا مقابلہ کیا.
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور ایران دونوں ممالک کسی نہ کسی طرح ایک ہی دشمن کی سازش کا شکار ہو رہے ہیں، یہ طے ہے کہ ایران نے اپنی مدد آپ کے تحت انتہائی نامساعد حالات میں جوہری ریکٹر اور سینٹری فیوجز بنائے اور پھر عالمی برادری کے اصرار پر ایران نے سمجھوتہ بھی کیا.
مہدی ہنردوست نے بتایا کہ ایران نے دنیا کا اس لئے مقابلہ کیا کیونکہ اس کے پاس تیل، گیس، ایل این جی اور اعلیٰ دماغوں سمیت نوجوان نسل کی کمی نہ ہے، اس لئے ہم آج بھی کھڑے ہیں، پاکستان میں بھی نوجوانوں کی کوئی کمی نہیں ، یہاں کی عوام بہت سمجھدار اور دین سے محبت کرنے والے ہیں.
انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ ہر اچھے برے وقت میں کھڑے ہیں، ایران کا اپنے ہمسایوں کے ساتھ اربوں ڈالر کی تجارت ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے ساتھ اس کی سطح انتہائی کم ہے جس کو بڑھانے کی اشد ضرورت ہے.
انہوں نے افغانستان سے متعلق کہا کہ پاکستان اور ایران کا افغانستان کے معاملے پر ایک ہی موقف ہے، ویسے بھی تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان کے باسیوں نے کبھی کسی غیر ملکی تسلط کو برداشت کیا نہ قبول کیا، لہذا افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی ایران اور پاکستان کی خواہش ہے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@