سرحدی واقعات کا مقصد پس پردہ پاک ایران تعلقات میں غلط فہمی پیدا کرنا ہے

اسلام آباد، 18 اکتوبر، ارنا - مشہور پاکستانی اخبار 'نوائے وقت' نے اپنے ایک اداریہ میں پاک ایران سرحد کے قریب ایرانی بارڈر گارڈز کے اغوا سے متعلق کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات کا مقصد بظاہر اور پس پردہ اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کے تعلقات میں غلط فہمی پیدا کرنا ہے.

روزنامہ نوائے وقت نے جمعرات کے روز اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ پاک ایران سرحد کے قریب ایران کے حساس شعبے کے دو افسروں سمیت 14 سیکورٹی اہلکاروں کو اغوا کر لیا گیا، سرچ آپریشن جاری ہے، جیش العدل نامی دہشتگرد تنظیم نے اغوا کی ذمہ داری قبول کر لی ہے.
دریں اثناء پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کو ایران کے اندرونی سرحدی علاقہ سے بارہ ایرانی سیکورٹی گارڈ کے اغوا پر تشویش ہے. پاکستان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے مستقبل میں مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے.
نوائے وقت کے مطابق اس طرح کے واقعات کا مقصد بظاہر اور پس پردہ پاک ایران تعلقات میں غلط فہمی پیدا کرنا ہے. مقام شکر ہے کہ دونوں برادر اسلامی ممالک کو ممکنہ حالات کا ادراک ہے.
اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تنازعہ اور کشیدگی کے لئے غلط فہمی کے واقعات کسی تیسرے بدخواہ فریق کی کارستانی لگتی ہے. سازشی عناصر چاہتے ہیں کہ سرحدی علاقے میں کشیدگی بڑھے جس سے پاک ایران غلط فہمیوں میں اضافہ ہو.
اسی تناظر میں پاکستان کو ایرانی سرحدی محافظوں کے اغوا پر تشویش ہے اور اس نے گارڈز کی بازیابی کے لئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرا دی ہے. اس ضمن میں دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کا باہمی رابطہ بھی ہو چکا ہے. یہ درست ہے کہ عالمی تناظر میں سرحدوں پر جو حالات پیدا کیے جار رہے ہیں اس کی روشنی میں اس طرح کے واقعات برادر اسلامی ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف صف آراء کرنے کا کی کوشش ہیں. میڈیا کو حالات کی نزاکت کا احساس کرنا چاہیے. یہ وقت کی آواز بھی ہے اور حالات کا تقاضا بھی!
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@