جوہری معاہدے کی ممکنہ ناکامی سے سلامتی کونسل کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا: سابق ایرانی مندوب

اسلام آباد، 17 اکتوبر، ارنا - بین الاقوامی جوہری توانائی ادارے (IAEA) میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سابق مندوب نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے کے ممکنہ خاتمے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا.

ان خیالات کا اظہار 'علی اصغر سلطانیہ' نے گزشتہ روز پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا.
انہوں نے کہا کہ ایران جوہری معاہدے سے نکلنے کی امریکی حکمت عملی بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے.
اعلی ایران سفارتکار نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے سے نکلنے کے ٹرمپ کا فیصلہ بین الاقوامی برادری کی کوششوں پر ایک طمانچہ ہے.
انہوں نے کہا یقینا امریکی انتظامیہ کے اس غیرتعمیری اقدام سے عالمی امن و استحکام پر منفی اثرات مرتب ہوں گے.
علی اصغر سلطانیہ نے مزید کہا کہ ایران خطے میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے بین الاقوامی برادری سمیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون کیا ہے اور کرتا رہے گا.
انہوں نے مزید کہا ہم ناجائز صیہونی ریاست کی جوہری اقدامات کو خطے کے لئے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں.
انہوں نے ایران کے پر امن جوہری تنصیبات پر امریکی اور صیہونی حکومت کی طرف سے متعدد دہمکیوں کو بین الاقوامی قوانین کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کوئی بھی بیرونی حملے کو روکنے کے لئے فوجی طاقت کے استعمال کو اپنا حق سمجھتا ہے.
ایرانی کے سابق جوہری اعلی اہلکار نے مزید کہا کہ بڑی طاقتیں دوسرے اسلامی جمہوریہ ایران کے پرامن جوہری سرگرمیاں کو مختلف طریقوں سے روکنے کے لئے متعدد حربے استعمال کررہے ہیں.
جوہری عدم پھیلاؤ کے اجلاس کی افتتاحی نشست میں صدر مملکت عارف علوی نے بھی خطاب کیا اور کہا ہے جوہری ہتھیار صرف دفاع کیلئے ہیں، پاکستان جوہری ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہے.
صدر مملکت عارف علوی نے مزید کہا کہ پاکستان دنیا میں جوہری عدم پھیلاؤ کا حامی ہے جبکہ پڑوسی ممالک جوہری عدم پھیلاؤ میں رکاوٹ ہیں، عالمی امن کو لاحق خطرات سے مشترکہ طور پر نمٹا جاسکتا ہے.
تقریب میں بین الاقوامی سطح پر متعدد مشہور جوہری ماہرین، سفارتکار اور طلباء نے شرکت کیں.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@