ایران نے جوہری معاہدے پر سو فیصد عمل کیا: سابق یورپی رہنما

لندن، 15 اکتوبر، ارنا - یورپی یونین کی سابق سربراہ خارجہ پالیسی نے جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری معاہدے کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اس پر سو فیصد عمل کیا ہے.

یہ بات سابق خاتون یورپی رہنما اور برطانوی سیاستدان 'کیتھرین ایشٹن' نے برطانیہ میں قائم روسی اسنٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر کے ساتھ ریڈیو پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ دنیا میں ایسے کم معاہدے ہوتے ہیں جن پر سو فیصد عمل درآمد ہوں جبکہ ایران نے اپنے وعدوں پر سو فیصد عمل کیا ہے.
کیتھرین ایشٹن کا کہنا تھا کہ ایران جوہری معاہدے کا مستقبل اس کے فریقین کی دیانت داری پر منحصر است، موجودہ حال میں ایران نے تو اس پر سو فیصد عمل کیا ہے جو نہایت اہم بات ہے.
انہوں نے ایران جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک فریق نے اس سے علیحدگی کا فیصلہ کرکے جوہری معاہدے کو مشکل میں ڈال دیا ہے، ہمیں نے صرف اس معاہدے کی صورتحال پر تشویش ہے بلکہ اس مسئلے پر بھی ہمیں پریشانی کا سامنا ہے کہ ہم مستقبل میں کس طرح سفارتی اور دیگر مشترکہ اقدامات کو آگے بڑھا سکتے ہیں.
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ 8 مئی کو غیرقانونی طور پر ایران جوہری معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کردیا اور اس کے علاوہ ایران پر امریکی پابندیاں عائد کرنے کا بھی حکم جاری کردیا.
امریکی صدر کے اس فیصلے کی وجہ سے ایران میں پہلے سے موجود بعض غیرملکی کمپنیاں تذبذب کا شکار ہوئیں اور وہ یہ اعلان کرنے پر مجبور ہوئیں کہ امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچنے کے لئے وہ ایران کے ساتھ تعاون میں کمی لائیں گی.
امریکی صدر نے ایران کو تنہائی کا شکار کرنے کے لئے اقتصادی دباؤ اور پابندیاں کا طریقہ کار اپنایا ہوا ہے جبکہ ایران نے اپنے وعدوں پر عمل کیا اور عالمی جوہری ادارہ بھی اس بات کی بارہا تصدیق کرچکا ہے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@