یکطرفہ پالیسی مسترد، آسیان تنظیم اقتصادی تعاون بڑھانے کی خواہاں

کوالالمپور، 13 اکتوبر، ارنا - آسیان تنظیم کے رکن ممالک کے رہنماؤں نے دنیا میں اقتصادی تعاون سے متعلق یکطرفہ پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے خطے اور عالمی سطح پر مشترکہ معاشی تعاون کو بڑھانے پر زور دیا.

تفصیلات کے مطابق، انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے اجلاس کے موقع پر دنیا کی پانچویں بڑی اقتصادی تنظیم جنوب مشرقی ایشیائی ریاستوں کی ایسوسی ایشن (ASEAN) کے رکن ممالک کے رہنماؤں کی بھی بیٹھک ہوئی.
آسیان تنظیم کی قیادت نے اس با پر اتفاق کیا کہ چین کے خلاف امریکہ کی تجارتی جنگ کے برعکس وی دنیا اور علاقائی سطح پر مشترکہ اقتصادی تعاون کو بڑھانے کی خواہاں ہے.
انہوں نے آسیان خطے کے علاوہ دنیا بھر میں تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کی توسیع کے لئے علاقائی اور عالمی تعاون کو بڑھانے کا مطالبہ بھی کیا.
آسیان ممالک کے رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ خطے میں رکن تنظیم ممالک کی مشترکہ مارکیٹ کے قیام کے لئے کوششیں جاری رکھیں گے.
آسیان تنظیم کے رکن ممالک کی تعداد دس ہے، جن میں برونائی، کمبوڈیا، انڈونیشیا، لاؤس، ملائشیا، میانمار ، فلپائن ، سنگاپور، تھائی لینڈ اور ویت نام شامل ہیں.
آسیان تنظیم کے تعاون معاہدے میں شامل دس رکن ممالک خطے اور عالمی سطح پر اہم کردار اداکررہے ہیں جہاں ایران بھی انھی اراکین سے مل کر تعاون کے بہتر انداز پیش کرسکتا ہے.
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی آسیان تعاون معاہدے میں باقاعدہ شمولیت سے علاقائی تعاون کو ایک نئی جان ملے گی جس سے ایران اور آسیان ممالک کے تعاون کی فضا کو بھی وسعت ملے گی.
اس وقت ایران اور آسیان ممالک کے 10 رکن ممالک کے درمیان ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہیں اور تنظیم کہ چھ ملک بشمول انڈونشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، فلپائن، ویت نام اور برونائی کے سفارتخانے ایرن میں قائم ہیں.
یاد رہے کہ ایرانی کابینہ نے 2013 میں ایران کی آسیان کے خیرسگالی اور تعاون کے معاہدے میں شمولیت کے حوالے سے دفترخارجہ کی تجویز کو منظور کردیا جس کے بعد گزشتہ سال ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل نے بھی اس معاہدے میں شمولیت کے لئے حکومت کو منظوری دے دی.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@