ایرانی وفد نے عالمی عدالت میں امریکہ کیخلاف دلائل دئے

تہران، 11 اکتوبر، ارنا - عالمی عدالت انصاف میں امریکہ کے خلاف ایرانی درخواست کی سماعت کی جس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قانونی ٹیم کے اراکین نے منطقی دلائل دیتے ہوئے امریکی الزامات کو مسترد کردیا.

تفصیلات کے مطابق، ایران کے وکیلوں نے اس موقع پر عالمی عدالت کے معزز ججوں کے سامنے ایران اور امریکہ کے درمیان 1955 میں طے پانے والے خیرسگالی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے پابندیاں لگا کر اس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے.
پیر کے روز بھی عالمی عدالت نے ایران کی درخواست پر سماعت جاری رکھا جس کے مطابق امریکہ پر ایرانی مرکزی بینک کے 2 ارب ڈالر اثاثہ جات کو غیرقانونی طور پر منجمد کرنے کا الزام ہے.
امریکی وفد نے اس موقع پر جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے ایران پر دہشتگردی کی حمایت کرنے کا الزام لگایا.
ایران کی لیگل ٹیم کے سربراہ 'محسن محبی' نے کمرہ عدالت میں بتایا کہ دوطرفہ تجارتی تعلقات خیرسگالی معاہدے کی بنیاد ہے مگر امریکہ نے نہ صرف ایرانی کمپنیوں کے خلاف دشمنی کا رویہ اپنا بلکہ اس نے ایران کے مرکزی بینک، قومی تعمیراتی ادارے اور ملی بینک کو بھی منفی پالیسیوں کا نشانہ بنایا.
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی عدالتوں کے ماورائے جغرافیائی سرحد احکامات کی وجہ سے لیگزمبرگ، برطانیہ اور کینیڈا میں ایرانی مفادات نشانے پر ہیں.
ایرانی لیگل ٹیم کے سربراہ نے بتایا کہ امریکہ اپنے منفی اقدامات کا جواب دئے بغیر اور دنیا کو اعتماد میں لینے کے بجائے بے بنیاد الزامات لگانے پر اترتا ہے اور اس نے ہمیشہ ایران پر دہشتگردی کی حمایت کرنے کا بھی الزام لگایا ہے.
یہ بات قابل ذکر ہے کہ دنیا کے سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار امریکہ کے کئی جانبدار اور انتقامی فیصلوں سے پوری دنیا اچھی طرح واقف ہے، جب چاہا کسی بھی ملک کو ناپسندیدہ قرار دیدیا اور جب چاہا اپنی من مانی کرتے ہوئے کسی بھی ملک پر کسی بھی قسم کی پابندی اپنی مرضی سے عائد کردی. اس کی ایک واضح مثال امریکہ کا وہ یکطرفہ فیصلہ ہے کہ جب موجودہ امریکی صدر نے پہلے ایران سے جوہری معاہدہ خود ختم کیا اور پھر ایران پر ادویات، اشیائے خوردنی اور طیاروں کے پرزوں کی برآمدات پر پابندی لگائی گئی.
اس سلسلے میں امریکی پابندیوں کو انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی سمجھتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران نے عالمی عدالت انصاف سے ان زیادتیوں کے خلاف رجوع کیا.
ہر وہ ملک جو اقوام متحدہ کا رکن ہے اپنے اوپر کسی بھی ملک کی جانب سے کی گئی زیادتی یا ناانصافی کے خلاف عالمی عدالت سے رجوع کرنے کا حق رکھتا ہے.
اس بار ہوا کا رخ بدلا اور عالمی عدالت نے گزشتہ ہفتے ایران کو حق پر مانتے ہوئے اپنے متفقہ فیصلے میں امریکہ کو حکم دیا کہ ان پابندیوں کو انسانی بنیادوں پر ہٹائے.
عالمی عدالت انصاف کے مطابق امریکہ کو انسانی جان بچانے کے لئے ادویات، طبی آلات اور اور اشیائے خوردنی پر سے عائد برآمدات کی پابندیاں ہٹانا ہوں گی اسی طرح جہازوں کے پرزہ جات کی برآمدات پر عائد پابندیاں بھی ہٹانا ہوں گی کیونکہ یہ بھی مسافروں کی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@