امریکہ ایران اور ترکی کے درمیان دوستانہ تعلقات سے پریشان ہے: لاریجانی

انطالیہ، 9 اکتوبر، ارنا – ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا ہے کہ امریکہ اور بعض علاقائی ممالک اسلامی جمہوریہ ایران اور ترکی کے درمیان اسٹریٹجک اور دوستانہ تعلقات سے پریشان ہیں.

یہ بات "علی لاریجانی" نے منگل کے روز ترکی کے شہر انطالیہ میں عالمی یورشیائی بین الپارلیمانی اجلاس کے موقع پر اپنے ترک ہم منصب "بینالی یلدریم" کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ امریکہ شامی مسئلے کے حل میں اسلامی جمہوریہ ایران، روس اور ترکی کے کامیاب اقدام سے پریشان ہوگیا.
لاریجانی نے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ مقاصد کی تک رسائی کے لئے باہمی اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے ساتھ ایسے مقاصد حاصل ہوں گے جو دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں ہیں.
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور ترکی کو مختلف صلاحیتوں سے استعمال کے ذریعہ تمام مسائل کے حل کئے لئے مناسب اقدامات اٹھانا چاہیئے.
ترک اسپیکر نے کہا کہ علاقائی باہمی تعاون، دہشتگردوں سے مقابلہ کرنا، امیگریشن کا مسئلہ، ماحولیاتی خطرات، بعض ممالک کی ظالمانہ پابندیاں اور ان کی جبر منعقدہ اجلاس کے اہم موضوعات میں سے ایک ہیں.
یلدریم نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور ترکی ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور شامی بحران کے حل میں ایران، روس اور ترکی کے درمیان تین فریقی تعاون کے ساتھ علاقے میں سیکورٹی، دفاعی اور فوجی مسائل حل ہوسکتے ہیں.
انہوں نے ایران کے جنوبی شہر اہواز میں حالیہ دہشتگردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایرانی حکومت اور قوم کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا.
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان پارلمانی تعاون بڑھانا ناگزیر ہے.
ترک اسپیکر نے ایران جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے امریکہ کے ایسے اقدام کے ساتھ علاقے بڑی تبدیلیوں کا شکار ہے جس حوالے سے ایران اور ترکی مناسب اقدامات اٹھائیں.
تفصیلات کے مطابق، ایرانی مجلس کے اسپیکر پیر کے روز یوروشیا کی اقتصادی تنظیم کے رکن ممالک کے اسپیکروں کے تیسرے اجلاس کی شرکت کے لیے ترکی کے شہر انطالیہ روانہ ہوگئے.
ترکی کے دورے میں نائب ایرانی اسپیکر 'علی مطہری'، نائب ایرانی صدر برائے پارلیمانی امور 'حسینعلی امیری' اور ایرانی پارلیمنٹ کے ایگزیکیٹیو نائب اسپیکر اور کچھ اراکین مجلس بھی ایرانی اسپیکر کے ہمراہ ہیں.
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس یورشیائی اجلاس میں 20 ممالک سمیت اسلامی جمہوریہ ایران، روس، قطر، فلپائن، پاکستان، منگولیا، لیتھوانیا، لاوس، کویت، کرغزستان، جنوبی کوریا، قازقستان، اردن، جاپان، عراق، ویتنام، ازبکستان، ترکمانستان، ترکی، تھائی لینڈ، تاجکستان، سری لنکا، سلوواکیا، سربیا، سعودی عرب، انڈونیشیا، ہنگری، چین، کمبوڈیا، بلغاریہ، برونائی، بوسنیا اور ہرزیگوینا، بیلاروس، بحرین، آذربایجان، ارمنیا، افغانستان کے اسپیکرز اور 17 یورپی اور ایشیائی ممالک کے پارلیمانی وفود شریک ہیں.
9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے.IrnaUrdu@