امریکہ اور چین کی آئندہ جنگ ایران کی تیل پر ہوگی

تہران،6 اکتوبر،ارنا۔ امریکی ہفتہ وار اخبار 'بارون' نے ایران مخالف امریکی پابندیوں کے نئے دور کے آغاز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیجنگ اور واشنگٹن کی آئندہ جنگ ایران کی تیل پر ہوگی۔

اس ہفتہ وار امریکی اخبار کے مطابق چین جو ایران کی خام تیل کے ایک چوتھائی کا خریدار ہے ایران مخالف امریکی ایک طرفہ پابندیوں کے خلاف عالمی مزاحمت کا محور بن گیا ہے۔
'پی ڈبلیو ایم اوئل' انسٹی ٹیوٹ میں تیل کی منڈی کے تجزیہ کار'اسٹفان برنوک' کا کہنا ہے کہ امریکہ اور چین کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر چین کی طرف سے امریکی مطالبات کو تسلیم کرنے کا امکان بہت کم ہے۔
اس ہفتہ وار اخبار نے ایران مخالف امریکی پابندیوں کےآغاز اور مارکیٹوں میں عدم استحکام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی تیل کے سب سے بڑے خریدار ممالک ایران کے خلاف پابندیوں کی تجدید کے مخالف ہیں۔ لیکن مالی معاملات میں ڈالر کی ضرورت اور یورپ کی تیل کے تجارت پر بڑی نجی کمپنیوں کے احاطہ اور امریکہ کے مقابلے میں اپنے مفادات کی تحفظ کی ضرورت کے پیش نظر یورپی یونین ایران مخالف امریکی پابندیوں کےسامنے بھرپور اقدام کرنے سےعاجز ہے۔
'پیتر ہارل' جو 'باراک اوباما' کی حکومت میں ایران کے خلاف پابندیاں لگانے کے حوالے سے کام کرتا تھا اوراب بھی امریکہ کی نئی حکومت کے سیکورٹی سینٹر کا رکن ہے اس سلسے میں کہا کہ چین کا پوزیشن امریکی پابندیوں کو پیچھے ہٹانےکے لئے دوسرے ممالک سے بہتر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین کے پاس بہت سے چھوٹے آئل ریفائنری ہیں جسے امریکی حکومت کو معلوم نہیں اور دوسری طرف چین کے پاس اپنی کرنسی یوان سے تیل خریدنے کا تجربہ بھی ہے۔
ہارل نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ چین بڑے سرکاری آئل ریفائنریوں کے ذریعے 'سینوپک' جیسے تیل کی درآمد کو کم کرنے کا خواہان ہے۔
اس اخبار کے ایک اور تجزیہ کار 'مایکل ہریسون' کا عقیدہ ہے کہ چین کے اسی اقدام کا اصل مقصد ایران کے خلاف پابندیوں کے حوالے سے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیاں پیدا ہونے والی کشیدگی سے نمٹنے کے لئے ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدرٹرمپ کا صبر و تحمل عربستان کی تیل میں پیداوار کے اضافہ سے منسلک ہے اگرچہ ٹرمپ کے لئے تیل کی پیداوار میں اضافہ ایرانی تیل کے خریداروں پر اور دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے لیکن امریکی صدر کو اسی حوالے سے کوئی عجلت نہیں ہے۔
اس امریکی ہفتہ وار نے آخرمیں اضافہ کیا کہ ایران اور چین کے سامنے ٹرمپ کا یہ سخت موقف اپنے خاص مقاصد کے حصول کے لئے موثر نہیں ہوگا۔




9467*
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@