تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت ایران مخالف امریکی پابندیوں کو بے اثر بنائے گی: چین

بیجنگ،6 اکتوبر،ارنا۔ چین کی سرکاری نیور ایجنسی 'شن ہوا' کی رپورٹ کے مطابق عالمی منڈیوں میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت، ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے بڑے حصے کو بے اثر بنائے گی۔

اس رپورٹ کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ عالمی منڈی کی تبدیلیاں امریکی کی مرضی پر نہیں چلتی ہیں اور ایرانی حکام نے بھی امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ ایرانی تیل کے خلاف پابندیاں جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ تیل کی قیمت میں بھی مزید اضافہ آئے گی۔
تفصیلات کے مطابق جتنی ہی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائے اتنی ہی ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے اثرات میں بھی کمی آئے گی۔ جیسا کہ اب بھی تہران کے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چھ مہینوں میں ایران کی تیل کی آمدنی میں 16 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
چین کی سرکاری نیور ایجنسی نے اضافہ کیا کہ ایران کے روان سال کے مالی بجٹ، تیل کی قیمت 50 ڈالرز فی بیرل کو پیش نظر رکھ کر تیار کیا گیا تھا جبکہ اب اس کی قیمت 70 ڈالرز تک پہنچ گئی ہے۔
شن ہوا کے اعداد و شمار کے مطابق ایران اس سال متوقع طور پر ہرمہینے 2میلن اور 400 ہزار فی بیرل تیل برآمد کرسکتا تھا حالانکہ ایران نے اس سے ہزار فی بیرل سے بھی زیادہ برآمد کی ہے اور اسی کی بھاؤ بھی متوقع قیمت سے زیادہ ہے۔
چین کی سرکاری نیوز ایجنسی نے ایران کے خلاف امریکی پالیسیوں اور پابندیوں کی شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر 'ڈونلڈ ٹرمپ' کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے تیل کی قیمت 2014 کے بعد سب سے اونچی سطح پر پہنچ گئی ہے۔
شن ہوا نے اضافہ کیا کہ ایرانی حکام کے مطابق جنوبی کوریا کے بغیر کسی اور ملک نے ایران سے تیل کی خرید کو بند نہیں کردی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق اب عالمی منڈی کو اس بات پر شبہہ ہے کہ سعودی عرب تیل کی پیدوار بڑھانے میں کامیاب ہوکر عالمی تیل کی منڈی میں ایران کی جگہ کو لے سکے۔
9467*
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@