امریکہ ناقابل بھروسہ مذاکرہ کرنے والا ہے: ظریف

تہران، 6 اکتوبر، ارنا – ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ ناقابل بھروسہ مذاکرہ کرنے والا ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران اس کے ساتھ بات چیت پر دلچسبی نہیں رکھتا ہے.

یہ بات "محمد جواد ظریف" نے انگریزی الجیریا چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہم امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات پر زیادہ دلچسبی نہیں رکھتے ہیں کیونکہ امریکہ قابل بھروسہ ملک نہیں ہے.
ظریف نے 1955 میں ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ دعوی کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات چاہتا ہے مگر اب جوہری معاہدے سے علیحدہ ہوگیا کیونکہ عالمی عدالت انصاف نے ان کے خلاف فیصلہ سنا دیا تو ٹرمپ اور اس کی حکومت کسی بھی معاہدے پر قائم نہیں رہیں گے.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہم جوہری معاہدے کو چھوڑ نہیں کریں گے کیونکہ یہ معاہدہ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان ساڑھے دوسال مذاکرات کا نتیجہ تھا.
انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدہ ایران اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ معاہدہ نہیں بلکہ 6 ممالک اور یورپی یونین نے اس پر دستخط کردیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس کو منظور کرلیا.
انہوں نے آئندہ دوسال میں ایرانی صدر حسن روحانی اور ٹرمپ کے درمیان دوطرفہ ممکنہ مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دوطرفہ ملاقات اور مذاکرات کے لئے باہمی احترام کی ضرورت ہے اور امریکہ کی موجودہ حکومت میں بڑی تبدیلیاں ناگزیر ہے.
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ترمپ کو جوہری معاہدے سے بہتر کوئی اور متبادل نہیں مل سکتا ہے اور یہ معاہدہ اسلامی جمہوریہ ایران، امریکہ اور عالمی برادری کے لئے سب سے بہترین سمجھوتہ ہے.
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی موجودہ حکومت نے ثابت کردیا کہ وہ قابل بھروسہ نہیں ہے کیوکنہ امریکیوں نے اپنے وعدوں پر عملدرآمد نہیں کیا.
ظریف نے ٹرمپ کی جانب سے دوسرے معاہدوں کی خلاف ورزی کے حوالے سے کہا کہ عالمی برادری کے لئے امریکہ کو فیصلہ نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ وہ جوہری معاہدے کے علاوہ یونیسکو، موسم، فری ٹریڈ ایگریمنٹ (NAFTA) اور ٹرانس پیسفک اسٹریٹجک اقتصادی پارٹنرشپ (ٹی پی پی) کے معاہدوں سے نکل گیا.
انہوں نے ایران کی جانب سے جوہری معاہدے میں باقی رہنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بے شک ہم امریکہ کی پیروی نہیں کریں گے کیونکہ وہ برا ماڈل ہے.
انہوں نے یورپ کی جوہری معاہدے کے تحفظ کے لئے کوششوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یورپ ایران کے اقتصادی مفادات کی فراہمی کے لئے عملی اقدامات بروئے کار لایا ہے اور ہم اس اقدامات کے نفاذ کا جائزہ کرکے اس کے تحت قیصلہ کریں گے.
انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ جوہری معاہدہ سب سے اچھا سمجھوتہ ہے جو عالمی برادری کے مفادات کی مبنی پر ہے.
9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@