عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد ضروری ہے: ایران

تہران،3اکتوبر،ارنا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فیصلے میں امریکہ کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت اور مالی لین دین کے حوالے سے جو رکاوٹیں اس نے پیدا کی ہیں انہیں ختم کریں۔

یہ بات اسلامی جمہوریہ ایران کے ترجمان 'بہرام قاسمی' نے کہی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کے جاری کردہ فیصلے میں امریکہ کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ ایٹمی معاہدے سے اپنی غیر قانونی علیحدگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تمام رکاوٹیں بالخصوص ایران مخالف دوائیں، خوراک، انسانی بنیادوں پر امداد اور ہوائی پابندیوں کا خاتمہ کریں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہمین عالمی عدالت انصاف کے حتمی فیصلہ آنے تک صبر کرنا چاہیے لیکن اس بات کا کہنا لازمی ہے کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں پر عمل درآمد سب ممالک کے لئے ضروری ہے اور بین لااقوامی سطح پر ان کا اطلاق ہوگا۔
قاسمی نے اس بات کا اضافہ کیا کہ عالمی عدالت انصاف کا یہ فیصلہ شاید ایسی صورتحال کا باعث بنے جس کی بناپر دوسرے ممالک کو امریکی حکومت کے مطالبات پرعمل کرنے کی ضرورت نہ ہو جس نے ایران کے خلاف ایک طرفہ پابندیوں کے ذریعے ان پر لاگو کیا ہے.
تفصیلات کے مطابق عالمی عدالت انصاف نے آج بروز بدھ ایران کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان 1955 میں طے پانے والے معاشی اور قونصلر امور کے معاہدے میں امریکہ کی خلاف ورزی کی درخواست کے فیصلہ پر اتفاق کرتے ہوئے امریکہ کی جانب سے ایران مخالف دوائیں، خوراک، انسانی بنیادوں پر امداد اور ہوائی پابندیوں کے خاتمے کے حق پر فیصلہ کیا.
یاد رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ نے 16 جولائی کو کہا تھا کہ امریکہ نے 1955 کے مشترکہ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کے بعد ایران نے فیصلہ کیا کہ امریکہ کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کرے گا.
ایران اور امریکہ کے درمیان 1955 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت دونوں ممالک معاشی اور قونصلر امور پر اقدامات کی عدم خلاف ورزی پر پابند رہیں گے جبکہ امریکہ نے جوہری معاہدے سے غیرقانونی علیحدگی کے بعد ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کردیں.

9467*
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@