عالمی عدالت انصاف نے ایران کے حق پر فیصلہ کیا

تہران، 3 اکتوبر، ارنا – عالمی عدالت انصاف نے بدھ کے روز ایران کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان 1955 میں طے پانے والے معاشی اور قونصلر امور کے معاہدے میں امریکہ کی خلاف ورزی کی درخواست کے فیصلہ پر اتفاق کرتے ہوئے امریکہ کی جانب سے ایران مخالف دوائیں، خوراک، انسانی بنیادوں پر امداد اور ہوائی پابندیوں کے خاتمے کے حق پر فیصلہ کیا.

عالمی عدالت انصاف کے سپریم کورٹ کے ججز نے اپنے فیصلہ پیش کرنے کے موقع پر اعلان کردیا کہ اس انصاف نے سمجھا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران مخالف بعض پابندیاں ایران اور امریکہ کے درمیان 1955 معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران کی معیشت بالخصوص فضائی صنعت، کھانے اور دوائیں کی فراہمی پر زیادہ نقصانات پہنچ گئے ہیں اور بعض بینکیں اپنے اثاثوں کو ایرانی کاروباری اداروں سے ہٹانے میں مصروف ہیں.

دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی عدالت انصاف نے فیصلہ کیا کہ امریکہ کو 1955 معاہدے کے مطابق داوئیں کی برآمدات، طبی سامان، خوراک اور طیارے اور اس کے حصوں اور متعلقہ معائنے کی پابندیوں کا خاتمہ کرنا چاہیئے اور ضمانت دے کہ اس فیصلے سے متعلق مالی لین دین ممکن ہوئے.
یاد رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ نے 16 جولائی کو کہا تھا کہ امریکہ نے 1955 کے مشترکہ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کے بعد ایران نے فیصلہ کیا کہ امریکہ کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کرے گا.
ایران اور امریکہ کے درمیان 1955 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت دونوں ممالک معاشی اور قونصلر امور پر اقدامات کی عدم خلاف ورزی پر پابند رہیں گے جبکہ امریکہ نے جوہری معاہدے سے غیرقانونی علیحدگی کے بعد ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کردیں.
9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@