دو طرفہ تجارت میں ڈالر کے استعمال میں کمی آ رہی ہے: ظریف

نیویارک، 3 اکتوبر، ارنا – ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی مسلسل پابندیوں کو دوطرفہ تجارت میں ڈالر کے استعمال کی کمی کی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کا ایسا رویہ بین الاقوامی مالیاتی نظام میں ڈالر کی طاقت کے خاتمے کا باعث بن گیا ہے.

یہ بات "محمد جواد ظریف" نے منگل کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ میں چند فریقی اور جوہری معاہدے سے متعلقہ نشست میں خطاب کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے اسلامی انقلاب کے آغاز سے ایران مخالف دباوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم کبھی بھی دھمکیوں کو برداشت نہیں کرکے ان پر منہ تھوڑ جواب دیں گے.
ظریف نے امریکہ کی جانب سے پابندیوں کی عادت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ڈالر کی طاقت سے زیادہ استعمال کرنا بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اس کی کمزروی کا باعث بن گیا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اب تمام ممالک پر دباو ڈال رہا ہے لہذا ان ممالک اپنے تجارتی معاملات میں ڈالر کے بجائے اپنی قومی کرنسیوں سے استعمال کر رہے ہیں.
یاد رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ اس سے پہلے نیویارک میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں یورپ اور گروپ 4+1 عملی اقدامات کے حوالے سے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران امریکہ کی جانب سے تیل کی فروخت کی پابندیوں سے مقابلہ کرنے کے لئے ڈالر کی بجائے دوسری کرنسیوں کے ذریعہ تیل کی فروخت اور عالمی معاملات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اہم میکانیزم ڈالر کو ہٹانا ہے.
ظریف نے کہا کہ بعض ممالک ایران کے ساتھ دوطرفہ معاملات میں مشترکہ کرنسیوں کے استعمال سے متعلق معاہدوں پر دستخط کر رہے ہیں جس کے تحت کسی بھی ملک ڈالر کے بغیر اپنے قومی پیسہ کے ساتھ مصنوعات کی خرید و فروخت کرسکتا ہے اور یہ بالکل مفید ہے۔
9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے.IrnaUrdu@