افغانستان اور بھارت کے اقتصادی تعلقات کو فروغ پر چابہار کی اہمیت

تہران، 2 اکتوبر، ارنا – ایرانی چابہار بندرگاہ افغانستان اور بھارت کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ پر اسٹریٹجک کردار ادا کر رہی ہے لہذا دونوں ممالک امریکی پابندیوں کے باوجود اس بندرگاہ کے اقتصادی مفادات کو چھوڑ کرنے پر تیار نہیں ہیں.

اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق، چابہار بڑی بندرگاہ اپنی جدید ترین سامان اور سہولیات کے ساتھ علاقے میں گہری جغرافیائی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے جو اسلامی جمہوریہ ایران، بھارت اور افغانستان کے علاوہ علاقائی ممالک بالخصوص وسطی ایشیا اس کے مفادات سے فائدہ اٹھ کرکے مستقبل میں مشترکہ ایشیائی مارکیٹ قائم ہوسکتی ہے.
امریکہ اور افغانستان کے چیمبر آف کامرس کے منیجینگ ڈائریکٹر "جفری گریکو" نے افغان طلوع نیوز چینل کے ساتھ ایک گفتگو میں کابل اور نئی دہلی کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ تعلقات کی ترقی پر چابہار بندرگاہ کی اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ بندرگاہ دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کی مضبوطی پر اہم کردار ادا کر رہی ہے.
بھارتی وزیر خارجہ "سوشمار سوراج" نے کہا کہ چابہار بندرگاہ علاقے میں تجارتی تعلقات کی ترقی کا باعث بن رہی ہے اور اقتصادی، سیاسی، ثقافتی، ٹیکنالوجی اور سہولیات کے شعبوں میں علاقائی ممالک کو ایک دوسرے سے منسلک کرے گی.
بھارت یہ بندرگاہ اور افغانستان کے ذریعہ وسطی ایشیا سے منسلک ہو رہا ہے اور چابہار اپنی مارکیٹ کے ذریعہ لاکھوں ٹن سامان اور اربوں ڈالر تجارتی تبادلوں کے ساتھ علاقے میں باہمی تعاون اور یکجہتی کا باعث بنے گی.
افغانستان اپنے تجارتی تعلقات میں پاکستان کی کراچی، قاسم اور گوادر بندرگاہوں کے بجائے ایرانی چابہار بندرگاہ کا استعمال کرسکتا ہے.
چابہار بندرگاہ تجارتی تعلقات کے ذریعہ پاکستان کی سڑکوں پر افغانستان کی حد کو کم کرسکتی ہے.
بھارت چابہار بندرگاہ کے ذریعہ وسطی ایشیا میں اپنے کردار کی توسیع دے سکتا ہے اور یہ بندرگاہ علاقائی تجارتی اور اقتصادی باہمی تعاون کو بڑھ کر سکتی ہے.
9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@